Go to ...
RSS Feed

ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کے منصب پر خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے مولا فضل الرحمان کےبھائی کی تعیناتی سیاسی اقرباپروری کی بدترین مثال ہے رابطہ کمیٹی پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کےشہری علاقوں کے عوام سے نفرت اور زیادتی کی انتہائی حدوں کو عبور کررہی ہے رابطہ کمیٹی اصولی طور پرانتظامیہ میں تقرری اور تعیناتی مقامی ہونی چاہیے لیکن سندھ حکومت نہ تو روایت قائم کرسکی اور نہ ہی قائم کرنا چاہتی ہے رابطہ کمیٹی کراچی۔۔۔۔۔24جولائی2020


ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ضلع وسطی کے ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ پر خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مولانافضل الرحمن کے بھائی کو تعینات کرنے کو سیاسی اقرباپروری کی بدترین مثال قراردیتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سندھ کی متعصب حکومت نفرت اور استحصال کی آخری حدوں کو عبور کرچکی ہے اب تک نسل پرستی کی بنیاد پر سندھ کے شہری علاقوں کا استحصال کیا جارہا تھا لیکن اب پیپلز پارٹی اپنے سیاسی جرائم میں دوسری سیاسی جماعتوں کو شریک کررہی ہے جس سے سندھ کے شہری علاقوں میں موجود احساس محرومی احساس بے یگانگی میں تبدیل ہوسکتا ہے رابطہ کمیٹی نے مزید کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی میں انہی ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر لاکھوں غیر قانونی تقرریاں کی گئیں اور شہری علاقوں کے بیٹوں کا حق چھینا گیا ایم کیوایم پاکستان واضح کردینا چاہتی ہے کے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نہ صرف موثر آواز بنے گی بلکہ ہر فورم پر پیپلز پارٹی کی جاگیردارانہ سوچ رکھنے والی حکومت کا راستہ روکے گی رابط کمیٹی نے ارباب اقتدار واختیار سے مطالبہ کیا کے سندھ میں جاری لسانی سیاسی اور انتظامی استحصال کو بند کرایا جائے اور منصفانہ نظام کی راء ہموار کرنے کےلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *