Go to ...
RSS Feed

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی نے مالی سال 2020-21کے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اپنے سفارشات اور مجوزہ بجٹ پر ردہ عمل سرکاری ملازمین اور پینشنر کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاسکا اور نہ ہی مزدور کی کم از کم اجرت کا کوئی تعین نہیں کیا جا سکا وفاقی بجٹ میں مزدور کی کم از کم اجرت 25ہزار کی جائے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنر کی پینشنر میں کم از کم 20فیصد اضافہ کیا جائے۔مشاورتی اقتصادی کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان این ایف سی یوارڈ کی شکل میں صوبوں کو 2ہزار874ارب روپے منتقل کیئے جائیں گے لیکن یہ اس وقت تک لا حاصل ہے جب تک یہ رقم صوبے،ضلع تحصیل تک منتقل نہیں کرتے۔مشاورتی اقتصادی کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان کراچی کے بجلی کے صارفین کیلئے سبسڈی میں 50فیصد کی کٹوتی کی گئی ہے جوناقابل فہم ہے۔کراچی کے بجلی کے صارفین کیلئے بجلی کی پیداوار زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات سے کی جاتی ہے۔مشاورتی اقتصادی کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے برآمدات کی فروغ کیلئے اقدامات کیئے جائیں 1لاکھ کی خریداری پر نان فائیلر کیلئے شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جائے۔رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان کراچی۔۔۔14جون2020ء


متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی نے مالی سال 2020-21کے بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اپنی سفارشات اور مجوزہ بجٹ پر اپنا ردہ عمل دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 7ہزار137ارب کے حجم کے بجٹ میں عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہ دے سکی مجوزہ بجٹ میں نہ تو سرکاری ملازمین اور پینشنر کو کوئی ریلیف دیا جاسکا اور نہ ہی مزدور کی کم از کم اجرت کا کوئی تعین کیا جا سکا وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 650ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال سے کم ہیں جو باعث تشویش ہیں بجٹ خسارہ کا تخمیہ کل حجم کا 7فیصد لگایا گیا ہے لیکن پیش کردہ اعداد شمار یہ بتاتے ہیں کہ یہ خسارہ مزید بڑھے گاکیونکہFBRکاہدف 4ہزار973ارب رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال سے زیادہ ہے اور جب گزشتہ مالی سال کے اہداف پورے نہیں ہوئے تو بڑھا ہوا ہدف کیسے پورا ہوگا جبکہ صرف قرضوں کی سود کی ادائیگی 2ہزار 946ارب روپے ہے تو محاصل کے اہداف پورے کرنا ممکن نہیں مہنگائی کی شرح سود9اعشاریہ 1فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے اسے 6اعشاریہ5فیصدپر لانے کا دعوہ غیر حقیقی نظر آتا ہے۔NFCایوارڈ کی شکل میں صوبوں کو 2ہزار 874ارب روپے منتقل کیئے جائیں گے لیکن یہ اس وقت تک لا حاصل ہے جب تک یہ رقم صوبے،ضلع تحصیل تک منتقل نہیں کرتے بالکل اسی طرح مختلف مد میں 179ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اس کے بر عکس کراچی کے بجلی کے صارفین کیلئے سبسڈی میں 50فیصد کی کٹوتی کی گئی ہے جو ناقبل فہم ہے۔کراچی کے بجلی کے صارفین کیلئے بجلی کی پیداوار زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات سے کی جاتی ہے لہذٰا پیٹرولیم لیوی میں کمی کا فائدہ کراچی کے بجلی کے صارفین کو منتقل کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے بعض درآمدی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی گئی ہے جس سے درآمدات کو فروغ ملے گا اور برآمدات متاثر ہوں گے جس سے بجٹ کا تجارتی خسارہ بڑھے گا اور معیشیت کی شرح نمو متاثر ہوگی۔اقتصادی مشاورتی کمیٹی نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم اور توانائی کے شعبے میں نرخوں میں اضافے کے بجائے آمدن میں اضافے کیلئے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے بالخصوص زرعی آمدنی کو ٹیکس کے دائرہ میں لایا جائے مزدور کی کم از کم اجرت 25ہزار کی جائے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنرز کی پینشن میں کم از کم 20فیصد اضافہ کیا جائے،تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے برآمدات کی فروغ کیلئے اقدامات کیئے جائیں 1لاکھ کی خریداری پر نان فائیلر کیلئے شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی مافیا کے جیب میں نہ جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *