Go to ...
RSS Feed

ایک جانب سندھو دیش کا خواب ہے اور دوسری جانب متروکہ سندھ،جنوبی سندھ صوبہ ہے جو سندھو دیش کے خواب کو چکنا چور کریگا۔کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی جو جماعتیں صوبے کی مخالفت کرتی ہیں وہ مہاجر دشمن جماعتیں ہیں اور انہیں آئندہ الیکشن میں کرارا جواب دینا ہوگا تمہیں جتنی لاشیں گرانی ہیں گراؤ ہم صوبہ لیکر رہینگے۔سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان جو مطالبات ایم کیو ایم پاکستان نے کیے آج پورا پاکستان وہ مطالبہ کر رہا ہے آج سب کہہ رہے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار ہونا چاہئے اور میئر کو اختیار ملنا چاہیے۔رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن طلبہ تنظیموں میں جو لوگ سندھو دیش کا نعرہ لگایا کرتے تھے وہ آج پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ رکن رابطہ کمیٹی سہیل مشہدی حیدرآباد۔۔۔04اکتوبر2020؁ء


متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے تحت حیدرآباد مارچ کے اختتام پر کوہ نور چوک پرکنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدر آباد کی تاریخ کے سب سے بڑے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپکے مارچ نے ساری سازشوں کو تاراج کردیا کراچی،حیدر آباد،میر پور خاص،نواب شاہ کو غلام بنانے کی کوشش کو چکنا چور کردیا۔ اس شہر حیدر آباد نے ثابت کردیا کہ آپ پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہوآپکی رگوں میں بانیان پاکستان کاکا خون ہے پاکستان آپ سے ہے اور آپ پاکستان سے ہیں آپ قائد اعظم کا خواب ہو، آپ لیاقت علی خان کی تعمیر ہوآج کااجتماع بتا رہا ہے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا دن آرہا ہے ایک جانب سندھو دیش کا خواب ہے اور دوسری جانب متروکہ سندھ،جنوبی سندھ صوبہ ہے جو سندھو دیش کے خواب کو چکنا چور کریگا ہمارا اور آپکا متحد ہونا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا مسلمہ اصول ہے کہ خالق کبھی اپنی تخلیق کے خلاف نہیں جاتا اور جب پاکستان کی حرمت پر حرف آیا تو22اگست کو ہم نے کیا کسی جماعت نے ایسا کیا،آپ جو زبان بولتے ہیں وہ پاکستان کے اتحاد کی علامت ہے پنجابی سندھی سے یا بلوچی سے یا کسی اور علاقائی زبان بولنے والے سے کس زبان میں بات کریگا وہ آپکی زبان ہے ہمارے اجداد نے پاکستان بنایا تھا اور آپ نکلے ہیں تو پاکستان بچائینگے اب آپ نکل آئین ہیں تو نا جاگیردار بچے گا اور نا گلا سڑا نظام نہ اس نظام کو بچانے والے بچیں گے۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوکارکن کسی جبر کسی مجبوری کی وجہ سے چلے گئے ہیں انکی لئے ہماری آنکھیں بھی کھلی ہیں اور باہیں بھی کھلی ہیں کراچی اگر متروکہ سندھ کا سر ہے تو حیدر آباد اسکا چہرا ہے اور متروکہ سندھ وہ بوجھ ہے جو ہم پاکستان اٹھا کر لائے تھے اس میں شامل تھا اور یہ ایک عالمی معاہدہ تھا اور اسکے ضامن تاج برتانیہ،یورپی یونین اور یورپ تھا۔ جبکہ گواہ قائد اعظم محمد علی جناح،لیاقت علی خان،نہرو،ماؤنٹ بیٹن شامل تھے اور کتنے گواہ چاہئے1947میں سندھ کے23شہروں میں سے 2شہر گھوٹکی اور نصر پور مسلم اکثریتی شہر تھے اور باقی 21شہر قدیم ہندوں باسیوں کی اکثریت تھی لہٰذا متروکہ سندھ ہندستان کے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں اور سندھ کے قدیم ہندوں باسیوں کا معاملہ ہے کوئی تیسرا دخل نا دے۔ سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان بر جوش حیدر آباد مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد وہ شہر ہے کہ جس کی مائیں بہنیں سروں پر قرآن رکھ کر نکلی تھی اور پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت نے ان پر گولیاں چلائیں تھی 250سے زائد نفوس شہید ہوئی کیا حیدر آباد کی عوام ڈر گئی حکومت کسی کی بھی ہو پیپلز پارٹی کی ہو یان لیگ ہو یا پھر خلائی مخلوق کی ہو حیدر آباد کی عوام ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اس تعلق کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام پر لاشیں گرانے کی باتیں کرنا جہالت ہے یا ہم جہالت کی بات کر رہے ہیں جب تک سندھ کے عوام جاگیر داروں اور وڈیروں کی غلامی سے آزاد نہیں ہوگے کوئی تمہیں آزاد نہیں کرا سکتا پیپلز پارٹی پاکستان کی دشمن جماعت ہے اس کے بانی نے 1971میں نعرہ لگایا تھا کہ ادھر تم ادھر ہم اور ملک دو لخت ہو ا ہم نے جب جب ان سے پیسوں کا حساب مانگا تو ہم پر لسانی اور تعصب کا الزام لگایا جب تک
انکی بد عنوانی اور کرپشن ختم نہیں ہوگی صوبہ اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ 13سالوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے 13گیلن پانی بھی نہیں دیا اس تعصب سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہمیں اپنے اندر 1986والاجزبہ پیدا کرنا پڑیگا اور اپنے پرچم کیساتھ جڑنا پڑیگا اورآ ج کی ریلی ثابت کرتی ہے کہ مہاجر متحد ہیں وہ آج بھی متحد ہیں وہ کل بھی متحد رہینگے اور تمہارے سینوں پر موم پگھلتی رہیگی جو جماعتیں صوبے کی مخالفت کرتی ہیں وہ مہاجر دشمن جماعتیں ہیں اور انہیں آئندہ الیکشن میں کرارا جواب دینا ہوگا تمہیں جتنی لاشیں گرانی ہیں گراؤ ہم صوبہ لیکر رہینگے۔رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا جلسہ نا تو جیالوں کا ہے نا ہی سرکاری ملازمین کا اور نا ہی 500روپے کے معاوضے پر آیا ہے بلکہ یہ صرف اور صرف حیدر آباد کا مارچ ہے اور جسکو کوئی شک ہو تو وہ اس جم غفیر کا مشاہدہ کرلے جو مطالبات ایم کیو ایم پاکستان نے کئے آج پورا پاکستان وہ مطالبہ کر رہا ہے آج سب کہہ رہے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار ہونا چاہئے اور میئر کو اختیار ملنا چاہئے اگر پیپلز پارٹی سے شہری علاقوں کے فنڈز کا حساب مانگا جائے تو وہ مخالفت پر اتر آتے ہیں آج جن علاقوں میں وہ ریلی نکال رہے ہیں وہاں کبھی سیورج کا نظام ٹھیک کرانے آئے ہیں اور وہ کس کے خلاف ریلی نکال رہے ہیں ابھی صوبہ مانگا بھی نہیں ہے قوم پرست لاشیں گرانے کی بات کر رہے ہیں پورا پاکستان لوٹ کر کھانے والے آج بھائی بھائی ہیں ان دونوں جماعتوں نے پورے پاکستان کو ماموں بنا کر رکھا ہے میں نیب کے چیئر مین سے مطالبہ کرتا ہوں کے انکے خلاف کاروائی تیز کی جائیں اگر ہماری لاشیں گرتی ہیں تو گریں سندھ حکومت کی سرپرستی میں پاکستان دشمن ریلی نکالی گئی جس میں بانیان پاکستان کی اولادوں کو گالیاں دی گئیں ملک توڑنے کی بات کی گئی پیپلز پارٹی کے خلاف مقدمہ بننا چاہئے 104سال تک انگریزوں کی غلامی کی ہے اور اس غلامی کے عوض تمہیں خان،سردار اور نواب کے خطابات ملے یہ خطاب تمہیں پاکستان یا مسلمانوں نے نہیں دئے بلکہ تمہیں مخبری کا انعام ملا ہے۔ہم نے ہجرت اختیاری طور پر کی ہے اور اس ملک کیلئے 20لاکھ جانوں کا نذرانہ دئے ہے آج کی ریلی دہی سندھ سے آنے والی جعلی حکمرانوں کے خلاف ہے یہ ریلی جعلی ڈومیسائل پر ملازمتیں دینے اور لینے والوں کے خلاف ہے اور اگر تم ہمیں درست گن لو تو سندھ کا وزیر اعلیٰ ہمارا ہوگا۔رکن رابطہ کمیٹی سہیل مشہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی ریلی حیدر آباد کی تاریخ کی منفرد ریلی ہے جو سٹی گیٹ حیدر آباد سے نکلی اور کوہ نور چوک پر موجود ہے لیکن اسکا آخری سرا ابھی تک سٹی گیٹ پر ہے حیدر آباد کے عوام کے دل کل بھی ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں مہاجروں کو دیواروں سے لگانے والوں آکر اس ریلی کا مشاہدہ کرلے، طلبہ تنظیموں میں جو لوگ سندھو دیش کا نعرہ لگایا کرتے تھے وہ آج پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ ڈسٹرکٹ انچارج ظفر صدیقی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں منتشر
کرنے کا دعوہ کرنے والوں آج دیکھ لو کہ ہم منتشر نہیں ہوئے بلکہ متحد ہو گئے ہیں حیدر آباد کل بھی حق پرستوں کا شہر تھا اور آج بھی حیدر آباد حق پرستوں کا شہر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *