Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

قصورمیں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی پاکستان کے معاشرتی نظام کے لئے باعث شرمندگی ہے،ڈاکٹرفاروق ستار


قصورمیں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی پاکستان کے معاشرتی نظام کے لئے باعث شرمندگی ہے،ڈاکٹرفاروق ستار
اپنے حال اورمستقبل کومحفوظ بنانے کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکواپناکرداراداکرناہوگا
بچے مستقبل کے معمارہوتے ہیں اوریہی جرائم پیشہ افرادکی زدپرہیں جوہمارے معاشرتی اقتدارکی تباہی کی طرف اشارہ ہے
اس مسئلے کی روک تھام کیلئے ہمیں اپنے بچوں میں آگہی دینی ہوگی اور اگر ضرورت ہو تو تعلیمی نصاب میں بھی اس موضوع کو شامل کیا جانا چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی ۔۔۔ 12، جنوری 2018ء
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام سانحہ قصور سمیت جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں ایم کیو اایم پاکستان کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد سے متصل فیملی پارک میں شمعیں روشن کی گئی۔ اس موقع پر سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہس قصورمیں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی پاکستان کے معاشرتی نظام کے لئے باعث شرمندگی ہے ،بچے مستقبل کے معمارہوتے ہیں اوریہی جرائم پیشہ افرادکے زدپرہیں جوہمارے معاشرتی اقتدارکی کی تباہی کی طرف اشارہ ہے،آج اپنے حال اورمستقبل کومحفوظ بنانے کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکواپناکرداراداکرناہوگا۔انہوں نے کہاکہ سانحہ قصور میں زینب امین کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک ہوا اس پر اے پی ایم ایس او نے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے تمام افراد کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کا پروگرام منعقد کیا گیا جس پر اے پی ایم ایس او کی مرکزی کمیٹی اور ایک ایک کارکن کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ قصور میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 12 واقعات رونما ہوچکے ہیں جوکہ درج ہیں جبکہ کئی پاکستان میں کئی واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو درج نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً ایسی کسی بھی واقعے کے بعد پہلی ذمہ داری حکومت اور اسکے ماتحت کام کرنے والے اداروں پر ہی آتی ہے لیکن یہ پوری قوم، معاشرے اور سول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم نے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنی ذاتی ذمہ داریاں پوری کی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کا مسلسل ارتکاب پوری پاکستانی قوم کیلئے ایک سوال ہے کہ ہم اپنا شمار زندہ قوموں میں کروانا چاہتے ہیں یا مردہ اور بے حس قوموں میں۔ قصور میں جس طرح ایک پھول کو مسلا اور کچلا گیا ہے اس کے بعد ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ واقعات کہیں ہماری اجتمای پستی اور اجتماعی بے حسی کی جانب تو اشارہ نہیں کررہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ زیادہ اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے اور اس کی روک تھام کیلئے کیا کیا اقدامات کئے۔ مستقبل میں اس قسم کے انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کیلئے ہم سب کو اپنی اپنی ذاتی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب سیاسی و سماجی تنظیموں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی وہی ہمارے فنکاروں نے بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جوکہ انتہائی خوش آئند ہے۔ اس مسئلے کی روک تھام کیلئے ہمیں اپنے بچوں میں آگہی دینی ہوگی اور اگر ضرورت ہو تو تعلیمی نصاب میں بھی اس موضوع کو شامل کیا جائے۔ انچارج اے پی ایم ایس او احسن علی غوری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصور میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ پر بات کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ ہم سب کے گھر میں ایک زینب موجود ہے اور ہم سب بھی فکر مند ہیں۔ آج کا ہمارا یہ پروگرام قصور میں درندگی کا نشانہ بننے والی زینب امین اور دیگر کی یاد میں شمعیں روشن کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں حکومتی سطح پر کوئی ایسی کمیٹی موجود نہیں جوکہ اس قسم کے واقعات کا ریکارڈ رکھے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے پالیسی مرتب کرے آج کے اس پروگرام کے توسط سے ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ ایسی کمیٹی قائم کی جائے۔
*****

Tags: ,

More Stories From Feature News