Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

بے گناہ لوگوں کے گھرگرے توپھرحکومتوں کے گرنے کاسلسلہ بھی شروع ہوجائے گا،سربراہ ایم یوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


بے گناہ لوگوں کے گھرگرے توپھرحکومتوں کے گرنے کاسلسلہ بھی شروع ہوجائے گا،سربراہ ایم یوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار 
متاثرین نے اپنی جمع پونجی لگا کر پلاٹ خریدے اور ان پر گھر بنائے وہ کاغذی نہیں ہیں، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
حکومت کو بھی پتہ ہے کہ چائنا کٹر زکے چیمپئن کون تھے اور آج کہاں ہیں ، یہ عدلیہ اور حکومت کو بھی دیکھنا چاہئے ، ڈپٹی کنوینر و میئر وسیم اختر
اگر مزید گھر توڑے جائیں گے تو ایم کیوایم کا ایک ایک ذمہ دار اور کارکن متاثرین درمیان کھڑا ہوگا، ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری 
احتجاجی مظاہرہ اس بات کا غماز ہے کہ کراچی شہر پر ظلم ہورہا ہے، رکن رابطہ کمیٹی و رکن قومی اسمبلی عبد الوسیم 
کراچی پریس کلب کے باہر عدالتی فیصلے کو سیاسی طور پر استعمال کرکے مکینوں کو بے گھر کرنے کے خلاف منعقدہ 
بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب
کراچی ۔۔۔23، دسمبر2017ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ ، صوبائی حکومت کی لینڈ مافیا کے لوگ ایم کیوایم پاکستان کو کمزور کران غریبوں کو بے گھر کرنا چاہتے ہیں ، میں انہیں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ابھی اتنے کمزور نہیں ہوئے ہیں اگر آپ کی طرف کوئی بلڈرز آئے تو ایم کیوایم کے کونسلرز ، کارکنان ، ایم این اے ، ایم پی اے سب آپ کیساتھ کھڑے ہوں گے ،ہم کراچی کی زمینوں پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور سپریم کورٹ سے کہتے ہیں کہ ان غریبوں کا کیا قصور ہے یا تو انہیں ان کے گھروں کی تعمیر اور زمین کا پورا معاوضہ دیاجائے اس سے قبل ہم ایک گھر بھی خالی نہیں ہونے دیں گے، ہم سندھ اسمبلی ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بے گنا ہ لوگوں کے گھر گرے تو پھر حکومتوں کے گرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب کے باہر عدالتی فیصلے کو سیاسی طور پر استعمال کرکے مکینوں کو بے گھر کرنے کے خلاف منعقدہ بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔احتجاجی مظاہرے سے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری ، ڈپٹی کنوینر و میئر کراچی وسیم اختر اور رابطہ کمیٹی کے رکن و رکن قومی اسمبلی عبد الوسیم نے بھی خطاب کیا ۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنہوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر پلاٹ خریدے اور ان پر گھر بنائے وہ کاغذی نہیں ہیں ،وہ لینڈ مافیا نہیں ہیں ، انہوں نے مارکیٹ ، بازار سے سرکاری اداروں کی تصدیق کے بعد زمین خریدی اور گھر بنائے ہیں ، لینڈ مافیا کے جرائم کی سزا عام شہریوں کو دی جارہی ہے ، ایم کیوایم غریبوں اور عام شہریوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی ۔انہوں نے کہاکہ کرے کوئی اور بھرے کوئی یہ ناانصافی اب ہم نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف ہیں ، صرف چائنا کٹنگ کا ذکر ہوتا ہے جو 10، 15فیصد کا ہے وہ کٹنگ جو لینڈ مافیا اور جرائم مافیا کے لوگ آج بھی بڑی بڑی زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں اور ایم کیوایم ان قابضین اور لینڈ مافیا کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مظاہرہ بھی حکومت سندھ کی بے حسی ، ناانصافی کے خلاف ہے ،لوگوں کے گھروں سے سائباں چھینا جارہا ہے لیکن ہم محنت خون پسینے کی کمائی سے گھر بنانے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ سیاسی ، قانونی طور پر کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ زیادہ تر گھر جو ان بستیوں میں ہیں وہ لیز ہیں ، الاٹمنٹ آرڈر ہیں ، سرکاری دستاویزات بھی ہیں ۔لینڈ مافیا کے دو مگرمچھ ہیں ایک پرائیویٹ سیکٹر میں ہے اور ایک سرکاری سرپرستی میں قبضے کا کام آج بھی جاری و ساری ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ اپنے لوگوں کو نواز رہی ہے اور زمینوں کی بند بانٹ ہورہی ہے اور زمینوں پر قبضے سرکاری سرپرستی میں کرائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ ، وفاقی حکومت سے کہتا ہوں کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے ، بیس ہزار خاندانوں کا ہے ، حسین آباد میں ان کے اسپورٹس کمپلکس کو توڑا گیا میں اس کی بھی مذمت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اوکھائی میمن جماعت کے اسپورٹس کمپلیکس کو واپس کیاجائے ۔ ڈپٹی کنوینر و میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جب سے ملک بنا ہے یہ قوم جدوجہد میں لگی ہے آج کا احتجاجی بھی اسی جدوجہد کی ایک کڑی ہے ، میں سوال کرتا ہوں کہ صاحب اقتدار سے کہ یہ قوم کب تک جدوجہد کرتی رہے گی اور اس قوم کے مسائل کب حل ہوں گے ، اس قوم کے ساتھ جب زیادتی ہوتی سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نظر آتی ہے مگر افسوس کہ اس قوم کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے ، اس ملک کا ہر بڑا شخص اپنے مسئلے سیدھے کرنے میں لگا ہوا ہے ، یہ مظلوم عوام کہاں جائیں اورکس کے دروازے کھٹکٹھائیں ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک سپریم کورٹ کے فیصلے کا تعلق ہے وہ سر آنکھوں پر ہے، ہم نے عدلیہ کا احترام اور عزت کرنا سیکھا ہے ، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کو پسند کرتے ہیں ، اب عدلیہ کا فیصلہ یہ آیا ہے کہ رفاعی پلاٹس کے اوپر سے تعمیرات ختم کی جائیں بالکل کی جائیں ہم بھی یہی کہتے ہیں ہم نے تو کر دکھایا ہے ، ملک کی بہت سی سیاسی جماعتیں اور حکومتیں رہیں ہیں انہوں نے بھی عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرایا مگر آج ہم عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرارہیں ہیں لیکن یہ دیکھنا چاہئے کہ کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں ہورہی ہے جہاں تک پارک ، کمیونٹی سینٹر کا تعلق ہے وہاں انکروچمنٹ نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی جگہیں جہاں کچھ چائنا کٹنگ کے لوگوں نے دھوکہ دیکر پلاٹس بیچے ہیں ، حکومت کو بھی پتہ ہے کہ چائنا کٹر کے چیمپئن کون تھے اور آج کہاں ہیں ، یہ عدلیہ اور حکومت کو بھی دیکھنا چاہئے ، معصوم لوگوں کو دھوکہ دیکر نے پلاٹس بیچے گئے ۔انہوں نے کہاکہ کے ڈی اے کے افسران پیسہ گھر نہ توڑنے کیلئے پیسہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں انہیں پیسے دینے کی ضرورت نہیں، کوئی ادارہ کسی کا گھر نہیں توڑے گا جب تک ہم عدلیہ جارہے ہیں ۔ ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری نے کہاکہ چائنا کٹنگ کا لفظ صرف کراچی والوں کیلئے اس لئے منسوب کیا گیا کہ ایک گھر جو انسان اپنی جمع پونجی سے بناتا ہے وہ بھی کراچی والوں کو عزت سے میسر نہ ہو ، گھر کی فراہمی حکمرانوں کا کام ہے لیکن یہاں گھر وں کو توڑا جارہا ہے ،متاثرین سے عدالتوں میں بلا کر پوچھا جاتا کہ ان کے گھروں کو کیوں توڑا جارہا ہے ، ایم کیوایم آج مظاہرین کے ساتھ کھڑی ہے اگر مزید گھر توڑے جائیں گے تو ایم کیوایم کا ایک ایک ذمہ دار اور کارکن آپ کے درمیان کھڑا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ گھروں کو توڑا جارہا ہے تو چائنا کٹنگ کا بھی حساب لیاجائے کہ وہ کون ماسٹر مائنڈ ہیں جو پیسے جیب میں رکھ کر اب چائنا کٹنگ کے خلاف بول رہے ہیں اور اب مہاجروں کامقدمہ لڑنے میں شرم محسوس کرتے ہیں ، انہی مہاجروں نے انہیں بنایا ، ان بے شرموں کو عزت کا خیال ہوتا تو سیاست چھوڑ کر ایم کیوایم کے ساتھ ہوتے اور مظلوموں کا ساتھ دیتے ۔ اگر ان گھروں کو توڑنے کی جانب مشینیں اٹھیں گی تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ان کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن و رکن قومی اسمبلی عبد الوسیم نے کہا کہ ایم کیوایم نے ہمیشہ حق کی آواز کو آگے بڑھایا اور ظلم کے خلاف کھڑی ہوئی ، کراچی کا جسمانی ، معاشی اور اقتصادی قتل اور تعصب کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ، یہ احتجاجی مظاہرہ اس بات کا غماز ہے کہ کراچی شہر پر ظلم ہورہا ہے ۔
*****

Tags: ,

More Stories From Feature News