Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

ہم عدلیہ کے فیصلوں کااحترام کرتے ہیں اوراس پرمن وان عمل درآمدچاہتے ہیں ڈاکٹر فاروق ستار


ہم عدلیہ کے فیصلوں کااحترام کرتے ہیں اوراس پرمن وان عمل درآمدچاہتے ہیں ڈاکٹر فاروق ستار 
حقیقی تبدیلی اس وقت آئیگی جب آئینی و قانونی اصلاحات متعارف کرائیں جائیں گی ڈاکٹر فاروق ستار
پاکستان کے عوام چہرے بدل جانے کو تبدیلی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن پھر صورتحال جوں کی تو ں رتی ہے ،ڈاکٹر فاروق ستار
ملک میں ایک احتساب کا ایک مؤثر ادارہ موجود ہونا چاہیے ایک مؤثر نظام اور قانون موجود ہونا چاہیے ڈاکٹر فاروق ستار
ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن شاہد پاشا کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت اور فی الفورہا کیا جائے ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی ۔۔۔۔15دسمبر 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے مقامی ہوٹل میں کتاب کی تقریب رونمائی کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم بہت اہم تاریخ کے موڑ پرہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے بھی یہ فیصلے کی گھڑی ہے اور دفاعی موومنٹ ہے، ایک طرف تو عدلیہ اپنا کردار ادا کررہی ہے اور جو فیصلے بھی آرہے ہیں بشمول آج کے فیصلے بھی یہ عدالتی تاریخ میں بھی اور سیاسی تاریخ میں بھی بڑے دوررس نتائج برآمد ہوں گے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے اور آج کا بھی جو فیصلہ آیا ہے اس کو بھی خوش دلی سے تسلیم کرتے ہیں اب اگر ایک آئینی ادارہ جو اپنا کام کررہا ہے ، دیکھیں اختلاف کرنا یا اتفاق کرنا یہ فریقین کا اپنا معاملہ ہے لیکن میں تو یہ بات کررہا ہوں کہ پاکستان کی اب آئیندہ کی جو سیاسی بساط بچھنی ہے 2018 کے انتخابات میں تو ایسا نہ ہو کہ ہمارا تمام انحصار صرف عدلیہ کے فیصلوں پر ہوجائے کیونکہ اگر ہم دیکھیں تو بنیادی اور اصولوی طور پر پانامہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے بجائے کسی نیب جیسے ادارے کو کرنا چاہیے تھا لیکن اگرپاکستان میں احتساب کاکوئی مؤثر نظام، قانون اور ادارہ موجود نہیں ہے تو اس لیے یہ سارا بوجھ عدالت عظمی کو اٹھانا پڑتا ہے تو سیاسی فریق جو بھی اپنی رائے رکھیں تو چونکہ فیصلے کی گھڑی ہے تو انھیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ یہ دوسرا فیصلہ آیا ہے اہلیت اور نا اہلی کا تو کیا یہ سارے کام عدالت کو کرنے ہیں یا اس کے لیے ہمارے پاس ادارے موجود ہیں، نظام موجود ہے یا قانون موجود ہے تو ہمیں اس کی طرف بھی توجہ کرنی ہے تو ایم کیو ایم یہ عہد کرتی ہے کہ ملک میں ایک احتساب کا ایک مؤثر ادارہ موجود ہونا چاہیے ایک مؤثر نظام اور قانون موجود ہونا چاہیے اس کی عدم موجودگی میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم عدلیہ اور اعلٰی عدلیہ کا وقت ضائع کریں گے، لیکن جب اب اگر یہ فیصلے آگئے ہیں تو ہم بھی بجا طور پر سپریم کورٹ سے ہی یہ امید وابستہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری استحکام میں ایک بڑی رکاوٹ جمہوریت کی نرسری کی آبیاری کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے جو بلدیاتی قوانین موجود ہیں انھوں نے بلدیاتی اداروں اور نظام کو اور کمزور بنایا ہے، انکے تمام اختیارات جو انھیں ملنے چاہیءں وسائل ملنے چاہیءں وہ تمام صوبائی حکومتوں کو دیدیے گئے ہیں، صوبوں میں مرکوز کردیے گئے ہیں، اختیار، وسائل اور اقتدار کی منتقلی ہونی چاہیے اس کے بجائے اختیار، وسائل اور اقتدار کا ارتقاز ہوا ہے، صوبے بھی بہت زیادہ اختیارات ہونے کی وجہ سے اپنا کام بہتر انداز میں نہیں کرپارہے ہیں، ایک تو وہ اختیارات جو انھیں مرکز سے وفاق سے ملے اور دوسری جانب کچھ انھوں نے اپنے ایسے قوانین بنائے ہیں بالخصوص سندھ بلوچستان اور کسی حد تک پنجاب نے کہ شہری اداروں اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات لے لیے ہیں، اس قدر صوبوں کے پاس اختیارات اور وسائل ہیں کہ انھیں خود سمجھ نہیں آرہی ہے کہ کس طرح انھیں استعمال کریں اور وسائل کی منصفانہ مساوی تقسیم کریں، تو یہ فیصلے بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو جو آنے والے انتخابات میں سیاسی بساط بچھنے والی ہے ، جو آئیندہ سیاسی جمہوری عمل کو آگے بڑھنا ہے تو یہ وہ تمام رکاوٹیں ہیں جو صرف الیکشن کے انعقاد سے دور نہیں ہوں گی ، سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں یہ تمام باتوں کو شامل کرنا ہوگا، عوام کے وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کو گلی محلوں اور لوگوں کے گھروں تک لے جائیں گے، احتساب کرنا اور احتساب کا ایک مؤثر نظام دینا ہوگا، قانون دینا ہوگا ایک ایسا مؤثر ادارہ بنانا ہوگا جس کے چیئرمین نیب کی تقرری نہ وزیر اعظم کو کرنا پڑے اور نہ قائد حزب اختلاف کو کرنا ہو، یہ جو مک مکا ہوتا ہے دو بڑی جماعتوں کے درمیان اور پھر پوراملک تماشہ دیکھتا ہے، ایک ایسا کمیشن بننا چاہیے آئین میں جس میں تمام پچھلے چیف جسٹس ہوں یا معتبر اداروں کے غیر متنازعہ لوگ ہوں جو فیصلے کریں یہ سیاسی جماعتوں کو اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ چیئرمین نیب کی تقرری کریں۔ یہ بات جو سیاسی جماعتیں تبدیلی کی باتیں کررہی ہیں انھیں بھی یہ باتیں کرنی چاہیءں لیکن وہ ایسا نہیں کررہی ہیں، اب جب بڑے فیصلے آرہے ہیں تو ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ عدلیہ ہماری 140-A کی آئینی پٹیشن بھی سیاسی طور پر انتہایہ اہمیت کی حامل ہے اور آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، ہمیں امید ہے کہ اب اتنے اہم مسئلے پر موجود ہماری آئینی پٹیشن کو بھی جلد سنا جائے گا اور روز کی بنیاد پر پٹیشن کو سنا جائے گا کیونکہ یہ سیاست اور جمہوریت کو مستحکم کرے گا۔اور عام آدمی مضبوط ہوگا،تمام سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سب اپنے منشور میں شامل کرنا ہوگا، نظم و ضبط کو وضح کرنا ہوگا اور کسی بھی صورت بے لگام نہیں ہونا ہوگا۔

Tags: ,

More Stories From Feature News