Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

آٹھ دسمبرکے جلسہ کے بعدسندھ کی تعمیروترقی میں کوئی بھی حیدرآبادکے کردارکونظراندازنہیں کرسکتا،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


آٹھ دسمبرکے جلسہ کے بعدسندھ کی تعمیروترقی میں کوئی بھی حیدرآبادکے کردارکونظراندازنہیں کرسکتا،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار 
جلسوں کا انعقاد وسائل پر انحصار کرکے نہ کیاجائے بلکہ کارکنوں کے حوصلوں اور قوتِ بازو پرکرکے کیاجائے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
ہمارے مخالفین نے پروپیگنڈے کی صوروت میں پورے ملک میں پھیلا دیا ہے کہ مہاجر اورایم کیوایم تقسیم ہوگئے ہیں،، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
ہمارا مقابلہ اس پروپگنڈے سے ہے ، اس ذہنی جہالت اور معذوریت سے ہے جو ہمیں بکھرے ہوئے سمجھتے ہیں، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
آٹھ دسمبر کو بتائیں گے کہ جو طبقہ پاکستان قائم کرسکتا ہے تو اپنے اوپر غلامی کی زنجیروں کوتوڑ کر پھینک سکتا ہے۔،ڈاکٹر محمدفاروق ستار
یہ بھی بہت بڑا سوالیہ نشانہ آگیا ہے کہ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم نے ہی پاکستان بنایا ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
8دسمبر کو حیدرآباد لطیف آباد میں ہونیوا لے جلسہ عام کے سلسلے میں اکبری گراؤنڈ میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے خطاب 
حیدرآباد۔۔۔3، دسمبر2017ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ جلسوں کا انعقاد وسائل پر انحصار کرکے نہ کیاجائے بلکہ کارکنوں کے حوصلوں اور قوتِ بازو پر جلسوں کا انحصار کیاجائے توایسے جلسے کی کامیابی کی سو فیصد ضمانت ہوتی ہے ، ہمارے مخالفین نے پروپیگنڈے کی صوروت میں پورے ملک میں پھیلا دیا ہے کہ مہاجر اورایم کیوایم تقسیم ہوگئے ہیں، ہمارا مقابلہ اس پروپگنڈے سے ہے ، اس ذہنی جہالت اور معذوریت سے ہے جو ہمیں بکھرے ہوئے سمجھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کی شب حیدرآباد لطیف آباد میں واقع اکبری گراؤنڈ جہاں ایم کیوایم پاکستان کے زیراہتمام 8دسمبر کو بڑا جلسہ عام ہے میں بلائے گئے کارکنان کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں خواتین کارکنان بھی بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان شبیر قائم خانی ، فیصل سبزواری ، کشور زہرا ، ہیر سوہو اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ، سندھ تنظیمی کمیٹی کے انچارج مسعود محمود اور ڈسٹرکٹ حیدرآباد کے انچارج راشد خلجی و اراکین بھی موجود تھے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہاکہ کارکنوں کے اجلاس کی اہمیت کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ایم کیوایم پاکستان کا کارکن تو ہمیشہ ایک مثالی کارکن سمجھا جاتا ہے پورے ملک میں دیگر سیاسی جماعتوں میں اگر کسی سیاسی کارکن کی مثال دی جاتی ہے تو ایم کیوایم کے کارکن کی دی جاتی ہے ، نظم و ضبط کی کہیں بات ہوتی ہے تو ایم کیوایم پاکستان کے حوالے سے ہوتی ہے ، یہ ایم کیوایم کا اعزاز ہے کہ ایم کیوایم نظریے فکر سوچ اور منشور کو آگے بڑھانے کیلئے کارکنوں کو ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے اس لئے کارکنوں کا احترام اور اعتماد اہم اور مقدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ کارکنان ہی کسی تحریک یاجماعت کے نظریئے کو آگے بڑھانے کیلئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، کارکنان پھس ہوں تو تحریک بھی ٹھس ہوتی ہے ہمیں اس تاثر کو زائل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورا اکبری گراؤنڈ صرف 8دسمبر کو بہنوں اور بیٹیوں سے بھرا ہوگا ۔اطلاع دی گئی ہے کہ پانچ دن رہ گئے ہیں ، ہمارا مقابلہ جہالت سے نہیں ، سردی سے نہیں مقابلہ اس ذہنی معذوری اور کنفویژن سے ہے جو ، انفرادی طور پر افراد معذور ہوسکتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر کسی قوم ، قومیت اور مظلوموں کے کسی طبقے کو اگر کسی ملک کی اشرافیہ یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہوں کہ مہاجر ذہنی طور پر کسی کنفویژن کی وجہ سے سوچنے سمجھنے کی صلاھیت سے محروم ہوگئے تو 8دسمبر اکبری گراؤنڈ کا جلسہ ان کیلئے چیلنج ہے اور ہم اس پروپیگنڈے کو اکھاڑ پھینکیں گے ۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مظلوم مہاجروں کو غلامی کی زنجیر میں جکڑ دیا گیا ہے کارکنان ہی وہ ایندھن ہوتے ہیں جن کا جذبہ ایک انقلابی فکر و سوچ کو اس کی منزل سے ہمکنار کرتا ہے ، یہ طے کرنا ہے کہ عزت کے ساتھ جینا مرنا ہے اور کسی طرح کی کوئی غلامی قبول نہیں کرنی ہے،8دسمبر کو بتائیں گے کہ جو طبقہ پاکستان قائم کرسکتا ہے تو اپنے اوپر غلامی کی زنجیروں کوتوڑ کر پھینک سکتا ہے اوراپنے ساتھ باقی غلاموں کو بھی آزاد کراسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنہیں صبح اٹھے تو تحفے میں ملا تھا اسی طرح جو کسی اور کے کاندھوں پر چل کر آئے اور مہاجروں کی تقسیم اور فتح کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں وہ بھول میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عزت ، مان سب داؤ پر لگا ہوا ہے اپنے حقوق کی بحالی کی جدوجہد تو کرنی ہے اس سے پہلے عزت کی جدوجہد کرنی ہے ، ہم آزاد پیدا ہوئے تھے اور آذاد مرنا چاہتے ہیں اس کے درمیان میں کہیں غلامی آگئی ہے تو سب باتوں کو چھوڑ کر اس غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونا اس کی جدوجہد ہم کررہے ہیں ، چالیس پینتیس سال کی اس محنت کو ضائع ہونے سے بچانا ہے یہ عزم ، استقلال ہمارا ہے ، ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم ہی پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہے ، یہ بھی بہت بڑا سوالیہ نشانہ آگیا ہے کہ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم نے ہی پاکستان بنایا ہے لیکن پہلے خود بچیں گے تو ملک کو بچاپائیں گے ۔ ہماری بقاء و سلامتی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو رتلقین کی کہ یہ بات گراہ سے باندھ گھر گھر جائیں ، خاص طور پر ماؤں ، بیٹیوں کا بڑا کردار ہے ، ایم کیوایم میں ہراول دستہ شعبہ خواتین ہی رہا ہے ، گھر گھر جا کر لوگوں کو نکالنا اور انہیں جلسے کی اہمیت ، 2018کے الیکشن کے چیلنجز بتانا ہے اور جو لوگ نادانیاں کررہے ہیں انہیں بھی ان کی اوقات بھی یاد لانی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ 8دسمبر کے جلسہ کے بعد سندھ کی تعمیر و ترقی میں کوئی بھی حیدرآباد کے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکتا ۔

Tags: ,

More Stories From 8 December Hyderabad Jalsa