Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

نورانی کباب شاہرہ قائدین یالیاقت آباددس نمبرکے انٹرچینج پرہرحال میں 5نومبراتوارکومردم شماری میں دھاندلی کے خلاف جلسہ کریں گے،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمد فاروق ستار


نورانی کباب شاہرہ قائدین یالیاقت آباددس نمبرکے انٹرچینج پرہرحال میں 5نومبراتوارکومردم شماری میں دھاندلی کے خلاف جلسہ کریں گے،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمد فاروق ستار 
ہمیں جلسہ عام کی اجازت نہیں ملے گی تو یہ عمل ہمیں سیاسی اور جمہوری حق سے روکنے کے مترادف ہو گا، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
عامر خان پرمخصوص نجی چینل کے الزامات، عامر لیاقت کے کامران ٹیسوری اور دیگر ٹی وی اینکر پرسن کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
22اگست سے پہلے کوئی منی لانڈرنگ ہوئی ہے تو میرے علم نہیں ہے اور 23اگست کے بعد کی میں ضمانت دیتا ہوں، ڈاکٹر محمدفاروق ستار
ہم 5نومبر اتوار کو جلسہ کریں گے ، ہمیں جلسہ کی اجازت کہیں نہ کہیں مل جانی چاہئے تھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایک اور ظلم ہوا ہے ، ڈاکٹر محمد فارو ق ستار
سرفراز مرچنٹ کا کراچی میں ہر ناجائز ، غلط کام اور منی لانڈرنگ میں مرکزی کردار رہا ہے، میرے خیال سے اس کی علیحدگی سے کتاب چھپنی چاہئے اور سپریم کورٹ کو پرسوموٹو ایکشن لینا چاہئے ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔یکم ،نومبر2017ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کو مردم شماری میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف 5نومبر اتوار کو مزار قائد پر ہونے والے جلسہ عام کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ، ہمیں جلسہ عام کی اجازت نہیں ملے گی تو یہ عمل ہمیں سیاسی اور جمہوری حق سے روکنے کے مترادف ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے سیاسی جمہوری حق کو غضب کیاجارہا ہے ، 5نومبر اتوار کو احتجاجی جلسہ کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اب مردم شماری کے صوبائی نتائج کو لیکر کل سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور اس میں حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیاجائے گا تو ہمارے جلسے کی اثرپذیری بھی کم ہوجائے گی ، ہمارے اعتراضات کو نہیں سنا جارہا ہے اور دوسری جانب جلسہ عام کرنے نہیں دیاجارہا ہے انہو ں نے سوال کیا کہ ہم اپنے سیاسی اور جمہوری حق کو کہا استعمال کریں ؟کہ جلسہ کی اجازت نہ دیکر ہمارے ساتھ ایک اور ظلم کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے سرفراز مرچنٹ کے منی لانڈرنگ اور عامر خان پر نجی چینل کے الزامات، عامر لیاقت کے کامران ٹیسوری اور دیگر ٹی وی اینکر پرسن کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کی تردید کی اور کہا کہ22اگست سے پہلے اگر کوئی منی لانڈرنگ ہوئی ہے تویہ میرے علم نہیں ہے اور 23اگست کے بعد کی میں ضمانت دیتا ہوں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کی شام ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر زکنور نوید جمیل، میئر کراچی و ڈپٹی کنوینر وسیم اختر ، کامران ٹیسوری ،رابطہ کمیٹی کے اراکین رؤف صدیقی ، محفوظ یار خان ، گلفراز خان خٹک اور عبد الوسیم بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 5نومبر کو مزار قائد پر احتجاجی جلسہ عام کا مقصد مردم شماری میں سندھ کے شہروں اور باالخصوص کراچی کے ساتھ جو زیادتی اور ناانصافی ہوئی ہے اس کے خلاف احتجاج ریکا رڈ کرنا ہے،، ہماری آبادی کو کم کرکے دکھایا گیا ہے ، ہم نے جلسہ عام کی اجازت کی درخواست بھی بہت پہلے دیدی تھی لیکن دو روز پہلے بتایا گیا کہ ہمیں اجازت نہیں دی جارہی ہے ، ہم نے ایک ہفتے پہلے 22اکتوبر کو یہ اعلان کیا تھا اور 23اکتوبر کو درخواست جمع کرادی تھی لیکن اگر ہمیں دو روز پہلے کہاجائے کہ اس جلسہ عام کی اجازت نہیں ملے گی تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سیاسی اور جمہوری حق سے روکاجارہاہے اور ایک سیاسی اور جمہوری حکومت اس میں رنخنہ ڈال رہی ہے انہو ں نے احتجاج کر تے ہو ئے کہا کہ ایک ہفتہ تک ہمیں آسرے میں رکھا اور ایک ہفتے کے بعد بتایا جارہا ہے کہ آپ کو جلسہ کی اجازت نہیں ملے گی ۔ ہم اب بھی تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اجا زت نہ دینے کی وجہ یہ بتا ئی گئی کہ ایک جی ڈی اے الائنس بنا ہے سندھ میں انہوں نے شاہد ایک گھنٹے آدھے پیچھے اجازت مانگی تھی انہیں اجازت دیدی گئی ہے انتظا میہ سے کہا ہے کہ ہے ، ہم اپنے مقام جلسہ کو چینلج کردیں گے لیکن دن، تاریخ اور وقت تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیاجائے ، ہم جگہ تبدیل کرلیں گے ،ہم نے تعاون بڑھایا اور کہا کہ شاہراہ قائدین جو مزار قائد سے ملحقہ ایک اور شاہراہ ہے ، شاہراہ قائدین سے نورانی کباب تک کی اس جگہ پر جلسہ کرنے کی اجازت دے دی جائے لیکن پولیس اور انتظامیہ ہماری اس آفر کو بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ، ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ دیگر ضلعوں میں بھی جلسہ کریں گے تو یہ جلسہ نہیں کرنے دیں گے ، ہمارے پمفلٹ چھپ چکے ہیں ، بینرز لگ چکے ہیں ، موبولائزیشن جاری ہے ،ہمارے سیاسی و جمہوری حق کو غضب کیاجارہا ہے ،۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے کارکنان جو رات میں 5نومبر کے جلسہ کیلئے بینرز اور پرچم لگارہے تھے انہیں اتاراجارہا ہے ، پولیس انتظامیہ یہ کام کررہی ہے ، کس کے کہنے پر کررہی ہے ، حکومت کے کہنے پر کررہی ہے ، پولیس انتظامیہ یہ باآور کرارہی ہے کہ پرچم لگانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے جبکہ جس شاہراہ پر پرچم لگائے جارہے تھے وہاں پر جماعت اسلامی اور ااسلامی جمعیت طلبہ کے دھڑا دھڑ پرچم لگے ہوئے ہیں ۔ یہ واضع پیغام ہے کراچی اور سندھ کے شہری ووٹرز کو کہ 2018ء کے الیکشن میں جوجگہ ملنی چاہئے وہ نہیں دی جارہی ہے ،پہلے ہی ہماری سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اجازت ملنی چاہئے اور کہیں نہ کہیں ہمارا بھی جلسہ ہونا چاہئے اگر ہمیں روکا گیا اجازت نہیں دی گئی تو ہم اس کے باوجود بھی اتوار 5نومبر دوپہر کو کراچی میں مزارقائد سے نورانی کباب شاہرہ قائدین اور یا لیاقت آباد 10نمبر کے انٹر سیکشن پر ہر حال میں یہ جلسہ کریں گے انہوں نے کہاکہ ہمارے خلاف بہت سارے الزامات لگائے جارہے ہیں ، سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہماری پنجا آزمائی ہوتی ہے ، ٹاک شوز میں کوئی الزام لگاتا ہے اس کا جواب دیتے ہیں ، لیکن اگر معذرت کے ساتھ میڈیا کے کچھ اکا دکا اینکرز بھی اگر فریق بن رہے ہیں تو ہماری یہ مجبوری ہے کہ آج ہم ان الزامات کی بھی تردید کریں اور قطعی مسترد کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ ایک الزام سرفراز مرچنٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے لگایا گیا ہے کیونکہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی ایف آئی اے نے شروع کردی ہیں ، ابھی تک جو ایف آئی آر کٹی ہے اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا لیکن اس کیس میں ارشدہ وہرا ، خواجہ سہیل منصور جو ایم این اے اور رابطہ کمیٹی کے رکن ، سابق سینیٹر احمد علی ، رؤف صدیقی رابطہ کمیٹی کے رکن شامل ہیں ،لیٹر پریذنڈنٹ کے نام سے آیا ہے اب یہ ایم کیوایم لندن ہے یا پاکستان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرفراز مرچنٹ کے تحریری بیان کو لیکر یہ ساری تحقیقات ہوریہ ہے ، حال ہی میں سرفراز مرچنٹ نے ٹاک شوز میں جو ایم کیوایم پاکستان یا میرے خلاف الزام لگایا ہے اس کی سختی سے تردید کرتا اور قطعی مسترد کرتا ہوں اور اسے جھوٹا بے بنیاد الزام قرار دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ ارشد وہرا ہمیں چھوڑ کر چلے گئے بشمول ارشد وہرا اور ان کے ساتھ جو ملوث افراد ہیں وہ ان تمام افراد کے حوالے سے کہتا ہوں کہ یہ تمام افراد کسی طرح بھی منی لانڈرنگ میں شامل نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سرفراز مرچنٹ کا اپنا منی لانڈرنگ کے الزام کے حوالے سے کیا کردار رہا ہے میرے خیال سے اس کی علیحدگی سے کتاب چھپنی چائے اور اس کا سوموٹو ایکشن سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کو لینا چاہئے کہ ایسا شخص جس کا بنیادی طور پر یہ کردار رہا ہے ، منی لانڈرنگ میں کے کے ایف کا پیسہ نہیں بلکہ کراچی میں ہونے والے جرائم ، زمینوں کی بند بانٹ کا پیسہ ، کراچی میں ہونے والا ہر غیر قانونی کام چاہے کسی نے بھی کیا ہو اسے ایم کیوایم پاکستان ،کے کے ایف پر گھومایا جارہا ہے ، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ سرفراز مرچنٹ کا کراچی میں ہر ناجائز ، غلط کام میں مرکزی کردار رہا ہے اگر جرائم کا پیسہ اس نے باہر بھیجا ہے تو اس کی تحقیقات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کرے ۔اگر سرفراز مرچنٹ نے کسی کمپنی کے ذریعے یہ کام کیا اسے دبئی میں بیچ دی اس کا پیسہ انڈیا گیا تو اس کے بارے میں انہیں معلوم ہوگا ، میرے علم نہیں ہے میں کسی کو اس حوالے سے جانتا ہوں نہ ملا ہوں ،ہمارا سرفراز مرچنٹ یا ایم کیوایم لندن سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور ایسے کسی شخص سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے ہم قطعی اور قطعی لاتعلق ہیں ، ہمارا کنکشن لندن یا الطاف حسین صاحب سے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی لوگ اگر یہ الزام لگاتے ہیں تو ان کی سیاست کا دارو مدار کنفویژن کریٹ کرنے میں ہے اور کسی طرح جھوٹ کو سچ ثابت کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایک نجی چینل کا عامر خان کے کیخلا ف پر و پیگنڈا کہ انہوں نے اربوں روپے کی پراپرٹی بنائی ہے میں اس الزام کو بھی مسترد کرتا ہوں ۔ سرفراز مرچنٹ اور نجی چینل نے جھوٹے الزاما ت لگا کر ہماری ساکھ کو متاثر کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش کی ہے جس پر ہم ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ایک الزام کامران ٹیسوری پر بھی لگا ہے ، عامر لیاقت جو بول ٹی وی کے اینکر ہیں اب ہمیں اس چینل پریہ موقع نہ ملا تو باقی چینل کے ذریعے بات پہنچانا چاہتے ہیں ، عامر لیاقت نے کہاکہ 2004ء میں کامران ٹیسوری ارباب رحیم کے مشیر تھے اور لیاری ایکسپریس وے کی آبادکاری کا کام ان کے پاس تھا ، ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کام شفیق الرحمن پراچہ کے پاس تھا ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے ہم اس الزام کو بھی مسترد کرتے ہیں ، پارٹی میں کامران ٹیسوری کو لینے سے پہلے ہم نے الزامات کی تحقیقات کی تھی اس کے بعد ان الزامات کے منفی جوابات ملے اور یہ الزامات مستردہونے کے بعد پارٹی میں کامران ٹیسوری کو شامل کرنے کا فیصلہ تھا ۔ انہوں نے کہاکہ2007ء میں انکوائری شروع ہوئی اور کہا گیا کہ یہ جعلی پاسپورٹ میں فرار ہوتے پکڑے گئے یہ جھوٹ ہے عامر لیاقت جعلی پاسپورٹ پیش کریں اورالزام ثابت کریں ، پھر کہا گیا کہ ان پر ایف آئی آر پلاٹوں کی کرپشن کی تھی ان پر ایف آئی آر سائیکل اور بکری کی چوری کی ایف آئی شامل ہے ، اب موبائل اور موٹر سائیکل چوری کی ایف آئی بھی کاٹی گئی ہے اورموبائل چوری کرنے کیلئے بھی یہ اپنی لینڈ کروزر میں گئے تھے یہ سراسر بے بنیا د اور حقائق کے بر عکس پر وپیگنڈا ہے ۔
*****

Tags: ,

More Stories From Feature News