Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

First they will kill Your Name, then they will kill You،اس محاورے پرعمل کیاجارہا ہےسابق صوبائی وزیرِداخلہ وصنعت وتجارت رؤف صدیقی


First they will kill Your Name, then they will kill You،اس محاورے پرعمل کیاجارہا ہےسابق صوبائی وزیرِداخلہ وصنعت وتجارت رؤف صدیقی
نیب کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس کا جواب میرے وکلاء جمع کرا چکے ہیں اور خط کے جواب کے منتظر ہیں، جب بھی نیب طلب کرے گی میں حاضر ہو جاؤں گا، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میں نے اپنے دور میں کوئی ایک بھی غیر قانونی بھرتی نہیں کی ہے، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی کی جانب سے میڈیا پر چلنے والی خبر کی پُرزور تردید 
جو اپائنٹمنٹ ہوئے ہیں وہ سو فیصد قانونی اور سندھ اسمال انڈسٹریز کے بورڈ کے چارٹر کے عین مطابق کئے گئے، سابق صوبائی وزیرِداخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
وزارتِ صنعت و تجارت کے دور میں ہم کئی دفعہ کئی کئی ماہ کیلئے حکومت سے علیحدہ ہوئے ، اگر اس دوران کوئی بھرتیاں ہوئی ہیں تو اس کی تحقیقات کرنی ہے تو ضرور کریں،سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
جہاں تک مجھے یاد ہے کہ تیس پینتیس نوکریاں دی گئیں اوریہ اپائنٹمنٹ چارٹر کے مطابق تمام قانونی اورکاغذی کارروائی کے بعد ہوئے، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
اس سے قبل بے ہنگم، جھوٹے اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر 26 مقدمات بنائے گئے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر،سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
راہ چلتے ملزموں سے ایک ایک جملہ ڈلوا کر مقدمات بنوائے گئے ہیں، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
ان ملزمان نے عدلیہ اورمیڈیا کے سامنے میں اپنے اس بیان کی تردید بھی کر ہے جسے ساری دنیا نے سُنا بھی اوردیکھابھی،سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے نہ صرف یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں بلکہ میڈیا پر اس کی باقاعدہ خبر چلائی جا رہی ہے، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میری شہرت کو خراب کرنے کیلئے یہ باقاعدہ مہم ہے لیکن عزت تو ساری کی ساری اللہ کی ہے، وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میں اللہ تعالی سے ہمیشہ عزت کا طلبگار رہا ہوں، وہ ہی میری حفاظت فرمائے گا۔۔۔انشاء اللہ ، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میری تمام وزارتوں کے دوران جب جب بھرتیاں ہوئی وہ قانون کے عین مطابق ہوئیں،سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
میرے دور میں کسی کی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک نوکری بھی بیچ سکے،سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی
نہ اُلٹے پُلٹے کام میں کرتا ہوں اور نہ کبھی ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ، سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارترؤف صدیقی
مورخہ 18اکتوبر ، 2017ء
سابق صوبائی وزیرِ داخلہ و صنعت و تجارت رؤف صدیقی نے میڈیا پر چلنے والی خبر کی پُرزور تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ
“First they will kill Your Name, then they will kill You” ، اس محاورے پر عمل کیا جا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گیا تھا، اس دوران میرے گھر کے پتے پر نیب کی جانب سے ایک خط آیا ۔نیب کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس کا جواب میرے وکلاء جمع کرا چکے ہیں اور خط کے جواب کے منتظر ہیں، جب بھی نیب طلب کرے گی میں حاضر ہو جاؤں گا۔ میں نے اپنے دور میں کوئی ایک بھی غیر قانونی بھرتی نہیں کی ہے۔جو اپائنٹمنٹ ہوئے ہیں وہ سو فیصد قانونی اور سندھ اسمال انڈسٹریز کے بورڈ کے چارٹر کے عین مطابق کئے گئے۔ وزارتِ صنعت و تجارت کے دور میں ہم کئی دفعہ کئی کئی ماہ کیلئے حکومت سے علیحدہ ہوئے ، اگر اس دوران کوئی بھرتیاں ہوئی ہیں تو اس کی تحقیقات کرنی ہے تو ضرور کریں۔جہاں تک مجھے یاد ہے کہ تیس پینتیس نوکریاں دی گئیں اوریہ اپائنٹمنٹ چارٹر کے مطابق تمام قانونی اورکاغذی کارروائی کے بعد ہوئے۔رؤف صدیقی نے کہا کہ اس سے قبل بے ہنگم، جھوٹے اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر 26 مقدمات بنائے گئے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔راہ چلتے ملزموں سے ایک ایک جملہ ڈلوا کر مقدمات بنوائے گئے ہیں۔ ان ملزمان نے عدلیہ اورمیڈیا کے سامنے میں اپنے اس بیان کی تردید بھی کر ہے جسے ساری دنیا نے سُنا بھی اوردیکھابھی۔میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے نہ صرف یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں بلکہ میڈیا پر اس کی باقاعدہ خبر چلائی جا رہی ہے۔میری شہرت کو خراب کرنے کیلئے یہ باقاعدہ مہم ہے لیکن عزت تو ساری کی ساری اللہ کی ہے، وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔میں اللہ تعالی سے ہمیشہ عزت کا طلبگار رہا ہوں، وہ ہی میری حفاظت فرمائے گا۔۔۔انشاء اللہ۔میری تمام وزارتوں کے دوران جب جب بھرتیاں ہوئی وہ قانون کے عین مطابق ہوئیں۔میرے دور میں کسی کی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک نوکری بھی بیچ سکے۔نہ اُلٹے پُلٹے کام میں کرتا ہوں اور نہ کبھی ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
*****

Tags: ,

More Stories From Urdu News