Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرفاروق ستارکاسندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ورکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہارالحسن پرقاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت اورپولیس اہلکار معین وکارکن کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت اورمتعددافرادکے زخمی پرگہرے دکھ وافسوس کااظہار


سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرفاروق ستارکاسندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ورکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہارالحسن پرقاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت اورپولیس اہلکار معین وکارکن کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت اورمتعددافرادکے زخمی پرگہرے دکھ وافسوس کااظہار 
حکومت کو کیسے جھنجھوڑا جائے اور کیسے انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائے یہ مسئلہ ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
جنہوں نے آج لوگوں شہید کیا ، راشد بھائی کو شہید کیا اس سے قبل بھی پی ایس پی کے کارکنان کو قتل کیا گیا ان سب کے قاتلوں کو گرفتار کیا جانے چاہئے اور انہیں کیفرکردار رک پہنچانا چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار 
ہمیں جہاں سے بھی دھمکیاں مل رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور لندن سے بھی جو ویڈیو اور آڈیو پیغامات آئے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپی نہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
اسکے علاوہ روائتی طور پر بھی جو ہماری لبرل پالیسی ہے اس کی وجہ سے مذہبی انتہاء پسند اور دہشت گرد ہیں انکی طرف سے بھی روائتی طور پر ہمیں خطرات ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں، موجود ہیں اور ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ہم نے جو بیڑا اٹھایا ہے ، جس مشن پر ہم گامزن ہیں ہم اسی پر قائم رہیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار 
اس مخصوص تشدد کہ مہاجر قاتل ، مہاجر مقتول کی سیاست کو اور اس کلچر کو بھی ختم کرنے کا ہم نے بھی بیڑا اٹھایا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
ہم پولیس گارڈ معین اور کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انکے اہل خانہ سے دلی تعزیت و ہمدری کا اظہار کرتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے بعد سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار کی خواجہ اظہار الحسن، سینئر ڈپٹی کنونیر عامر خان، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین اسمبلی کے ہمراہ خواجہ اظہار الحسن کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔ 02، ستمبر 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے بعد خواجہ اظہار الحسن، سینئر ڈپٹی کنونیر عامر خان، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین اسمبلی کے ہمراہ خواجہ اظہار الحسن کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حملہ میں ایک پو لیس اہلکار معین اور ہمارے کارکن کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے بعد خواجہ اظہار الحسن عید الاضحی کی نماز ادا کرکے جب نکلے تو انکی گلی کے کونے پر پولیس کی وردی میں ملبوس حملہ آوروں نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں خواجہ اظہار الحسن بال بال بچ گئے لیکن ان کا گارڈ معین اور ہمارے کارکن کامران بھائی کا بچہ حملہ آوروں کی گولیوں سے شہید ہوگئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے جوکہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ذمہ داری سے بری الزما نہیں ہوسکتی ، یہ سراسر حکومت کی ذمہ داری ہے اور بشمول میرے ایم کیو ایم پاکستان کے تمام منتخب نمائندے، رابطہ کمیٹی کے اراکین، میئر، ڈپٹی میئر، ضلعی چیئرمینز، وائس چیئرمینز اور یہاں تک کہ ہماری یوسیز کے چیئرمینز اور وائس چیئرمیز تک کئی مرتبہ ان خدشات کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی 15 ، 20 روز قبل بھی ہمارے یوسی چیئرمین راشد بھائی کو گھات لگا کر شہید کیا گیا اور اس قبل ایک سیاسی جماعت کے دو کارکنان کو بھی ان کے گھر کے باہر گولیاں مر کر قتل کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے آج اظہار الحسن بھائی کو کچھ ہوجاتا میں جب یہ کہتا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کامران بھائی کا بیٹا اور پولیس گارڈ معین کی جانیں قیمتی نہیں ہے، انکی جانیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں لیکن ظاہر ہے اگر لیڈر آف دی اپوزیشن کو کچھ ہوجاتا تو پھر آپ یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس شہر میں اس وقت کیا صورتحال ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر کو جس طرح لاوارث بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے اور جس کی وجہ سے ہم حالیہ بارشوں میں چاروں طرف تباہیاں اور بربادیاں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اختیارات اور وسائل رکھ لئے اور ساری ذمہ داری میئر کراچی اور ایم کیو ایم پاکستان پر ڈال دی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی ہم نے SOS کال دی انہوں نے بھی یہ سارا کام ہم پر چھوڑا پھر ہم نے چاروں لاچار ، افواج پاکستان کو دعوت دی ، انکے اہلکار آئے اور انہوں نے پھر ہمارے ساتھ مل کر کام کیا اس سے بارحال آج لوگ قربانی کرنے کی پوزیشن میں آئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت کو کیسے جھنجھوڑا جائے اور کیسے انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائے یہ مسئلہ ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ سوچنا ہے ، ہم سب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آپ کی جانوں کو خطرہ ہے لیکن ہماری جانوں کو خطرہ ہونے کے باوجود ہمارے گھروں پر سیکیورٹی نہیں ہے۔ تو ان سب باتوں کے مکمل تدارک کیلئے حکومت کو ہمارے کے ساتھ مکمل مکمل تعاون اور رابطہ قائم کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ فیصل بھائی، عامر بھائی، خالد بھائی اور ہمارے سارے رہنما، ایم این یز، ایم پی ایز، سینیٹرز، میئر اور ڈپٹی میئر سب غیر محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ میں نے خود اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعظم نواز شریف صاحب سے اور شاہد خاقان عباسی صاحب سے سب سے کہا کہ ہے یہ انتظام کریں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئے، یہ جو حملہ آور اور قاتل ہیں جنہوں نے آج لوگوں شہید کیا ، راشد بھائی کو شہید کیا اس سے قبل بھی پی ایس پی کے کارکنان کو قتل کیا گیا ان سب کے قاتلوں کو گرفتار کیا جانے چاہئے اور انہیں کیفرکردار رک پہنچانا چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں جہاں سے بھی دھمکیاں مل رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور لندن سے بھی جو ویڈیو اور آڈیو پیغامات آئے ہیں وہ بھی کسی ست ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ روائتی طور پر بھی جو ہماری لبرل پالیسی ہے اس کی وجہ سے مذہبی انتہاء پسند اور دہشت گرد ہیں انکی طرف سے بھی روائتی طور پر ہمیں خطرات ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہاں پر یہ ساری باتیں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تفتیش کا ہر طرح کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن احتیاط علاج سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں نے سے نماز عید ادا کی کے ایم سی گراؤنڈ پی آئی بی میں وہاں بھی کوئی خاطر خواہ سیکیورٹی کے انتظامات نہیں تھے اور وہ بھی سیکیورٹی رسک تھا۔ اگر کوئی واقع ہوجاتا ہے اور ہمارے کسی رہنما کے خلاف کوئی سازش کامیاب ہوجاتی ہے تو ہمارے کارکنان میں ویسے ہی کئی معاملات کے لیکر غم و غصہ ہے ، استعال ہے اور پھر اس شہر میں کیا صورتحال ہوگی، سندھ کے شہروں میں کیا ہوگا اور یہ امن تباہ کرنے کی بھی سازش ہے جس کیلئے ہم سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اپنی جگہ پر کھڑے ہیں، موجود ہیں اور ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ہم نے جو بیڑا اٹھایا ہے ، جس مشن پر ہم گامزن ہیں ہم اسی پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تشدد کو ہر حال میں ختم کرنا ہے اور ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے، تصادم کو ہر حال میں روکنا ہے اور ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اس مخصوص تشدد کہ مہاجر قاتل ، مہاجر مقتول اس سیاست کو اور اس کلچر کو بھی ختم کرنا ہے اور ہم نے اس کا بھی بیڑا اٹھایا ہے۔ پریس کانفرنس کے آخر میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور تمام سیاسی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ آئے اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم پولیس گارڈ معین اور کامران بھائی کے بیٹے ارسل کی شہادت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انکے اہل خانہ سے دلی تعزیت و ہمدری کا اظہار کرتے ہیں۔

Tags: ,

More Stories From Feature News