Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

ہم نے پیپلزپارٹی کے دوستوں کی بات سنی اوران سے وقت مانگا ہے ہم جلدرابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعدفیصلہ کرینگے،ڈاکٹرفاروق ستار


ہم نے کھلے دل کے ساتھ پیپلزپارٹی کے دوستوں کی بات سنی اورکی دعوت کو غور سے سنا، ڈاکٹر فاروق ستار
ہم نے بندالفاظوں میں سندھ کے شہروں اور حلقوں کے مسائل پیپلزپارٹی کے دوستوں کے سامنے رکھے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
جس طرح ہم نے سندھ کے حقوق کیلئے اپنا کردار ادا کیا اسی طرح پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے وسائل شہری حکومتوں تک منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، ڈاکٹر فاروق ستار
انسانی مسائل ہمارے ہوں یا آپ کے ہوں ان کے حل کیلئے اونر شپ نظر آنی چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار
سندھ کے شہروں کے میئرز اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور انکے وسائل کے بارے میں پیپلزپارٹی کے دوستوں کو سوچنا چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار
صوبائی خودمختاری کے بعد قانون نافذ کرنیو الے ادارے بھی سندھ حکومت کے ماتحت ہے اور ان سب کے باوجود ایم کیو ایم (پاکستان) کے بیگناہ کارکنان کی گرفتاری جاری ہیں،

ہم نے پیپلزپارٹی کے دوستوں کی بات سنی اوران سے وقت مانگا ہے ہم جلدرابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعدفیصلہ کرینگے،ڈاکٹرفاروق ستار
ڈاکٹر فاروق ستار

سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی نااہلی کے بعد عوام ایک نئے وزیراعظم کا انتخاب چاہتے ہیں، نوید قمر
ہم سب کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ چند افراد کے جانے سے جمہوریت کو دھچکا نہیں لگنا چاہئے اور نہ ہی اسمبلی کی مدت ختم ہونی چاہئے، نوید قمر
نوید قمر نے مزید کہا کہ ہم سب کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم کیلئے ہونے والے انتخابات میں ہم ایک متفقہ امیدوار کھڑا کرے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر فاروق ستار سے اس میں مدد کی درخواست کی ہے، نوید قمر
ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے بعد سربراہ ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستار اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے نوید قمر کی مشترکہ پریس بریفنگ

کراچی ۔۔۔ 30، جولائی 2017ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد نے اتوار کی شب متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے عارضی مرکز واقع بہادر آباد میں ایم کیوایم (پاکستان) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فارو ق ستار، ڈپٹی کنونیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور اراکین رابطہ کمیٹی سے ملاقات کی اور وزیراعظم کیلئے متفقہ امیدوار لانے کی درخواست کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں سینئر صوبائی وزیر سندھ نثار کھوڑو، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، رکن قومی اسمبلی عبدلحکیم بلوچ اورپیپلز پارٹی کراچی کے صدر ڈاکٹر عاصم حسین شامل تھے۔ ملاقات کے بعد سربراہ ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں نئے وزیراعظم کا انتخاب ہونا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) سینیٹ میں تیسری، قومی اسمبلی میں تیسری اور سندھ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت ہے۔ ہم نے کھلے دل کے ساتھ ان کی بات اور ان کی دعوت کو سنا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق بھی سندھ سے ہے اور ایم کیوا یم (پاکستان) کا بیس بھی سندھ ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ جب سندھ کی دو جماعتیں ایک ساتھ بیٹھے تو اس موقع کو ہمیں ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ ہم نے بندالفاظوں میں سندھ کے شہروں اور حلقوں کے مسائل پیپلزپارٹی کے دوستوں کے سامنے رکھے ہیں۔ دیہی سندھ اور شہری سندھ کے درمیان فرق ختم ہونا چاہئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد تمام صوبوں کو صوبائی خودمختاری ملی اور صوبائی خودمختاری کیلئے ہم نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جس طرح ہم نے سندھ کے حقوق کیلئے اپنا کردار ادا کیا اسی طرح پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے وسائل شہری حکومتوں تک منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آج بھی ہم نے اپنے یوسی کے وائس چیئرمین اور سینئر کارکن محمد راشد جوکہ 6 بیٹیوں کا باپ تھا انکا جنازہ اٹھایا ہے۔ یہ سب کراچی کے امن کو خراب کرنے کی سازش لگتی ہے اور پیپلز پارٹی کو جانب توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی مسائل ہمارے ہوں یا آپ کے ہوں ان کے حل کیلئے اونر شپ نظر آنی چاہئے۔ سندھ کے شہروں کے میئرز اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور انکے وسائل کے بارے میں پیپلزپارٹی کے دوستوں کو سوچنا چاہئے۔ وسائل اور روزگار کی تقسیم میں ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے سنجیدگی دیکھانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد قانون نافذ کرنیو الے ادارے بھی سندھ حکومت کے ماتحت ہے اور ان سب کے باوجود ایم کیو ایم (پاکستان) کے بیگناہ کارکنان کی گرفتاری جاری ہیں۔ ہم نے پیپلز پارٹی کے دوستوں کی بات سنی اور ان سے وقت مانگا ہے ہم جلد رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد فیصلہ کرئینگے۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی نااہلی کے بعد عوام ایک نئے وزیراعظم کا انتخاب چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹے کرے اور سب کو ساتھ لیکر چلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں بامشکل 10 ماہ ہی بچے ہیں۔ ہم سب کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ چند افراد کے جانے سے جمہوریت کو دھچکا نہیں لگنا چاہئے اور نہ ہی اسمبلی کی مدت ختم ہونی چاہئے۔ نوید قمر نے مزید کہا کہ ہم سب کی خواہش ہے کہ وزیر اعظم کیلئے ہونے والے انتخابات میں ہم ایک متفقہ امیدوار کھڑا کرے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر فاروق ستار سے اس میں مدد کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دلائل ایم کیو ایم (پاکستان) کے دوستوں کے سامنے رکھے ہیں تاکہ اسلام آباد میں جو ہونا ہے اس میں ہم ساتھ ہو۔

Tags: ,

More Stories From Feature News