Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان میں احتساب کے عمل کا آغاز ہے، سربراہ ایم کیوایم (پاکستان) ڈاکٹر محمد فاروق ستار


سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان میں احتساب کے عمل کا آغاز ہے، سربراہ ایم کیوایم (پاکستان) ڈاکٹر محمد فاروق ستار
نااہلی کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس فی الفور بلا کر نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لانا چاہئے، ڈاکٹر محمد فارو ق ستار
حکومت سندھ کی جانب سے احتساب سے بھاگنے کا عمل انتہائی تشویشناک ہے سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
سپریم کورٹ 179 میگا کرپشن کے مقدمات پر سوموٹو نوٹس لے تاکہ انصا ف اور احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
631Nبہت ہی سادہ اور سیدھا معاملہ ہے بینکوں سے لسٹیں نکال لینی چاہئے اور جن لوگوں نے قرضے لیکر کھائے انہیں نااہل قرار دیا جانا چاہئے اور انہیں سیاست اور الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
بہادرآباد میں ایم کیوایم (پاکستان ) کے عارضی مرکز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔28، جولائی 2017 ء
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ سپریم کور ٹ آف پاکستان ایک آئینی ادارہ اور ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے ، اس کا فیصلہ سب کو ماننا چاہئے ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف ، اسحاق ڈار اور دیگر کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نااہلی ایک غیر معمولی فیصلہ ہے ، بجا طور پر پاکستان کے عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ پاکستان میں احتساب کے عمل کا آغاز ہے اور یہ سلسلہ اب تسلسل کے ساتھ قائم رہے گا ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس فی الفوربلا کر نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لانا چاہئے تاکہ سیاسی جمہوری عمل کا تسلسل اپنی جگہ قائم رہے اور وہ مضبوط و مستحکم ہو ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن صوبہ سندھ میں ہے اس نازک موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے احتساب سے بھاگنے کا عمل انتہائی تشویشناک ہے سپریم کورٹ کو اس کا بھی سوموٹو ایکشن لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ 179میگا کرپشن کے کیسز نیب نے سپریم کورٹ کو بھیجے ہیں لیکن اس میں اب تک پیش رفت نہیں ہوئی ہے ، سپریم کورٹ 179مقدمات پر سوموٹو نوٹس لے تاکہ انصا ف اور احتساب کا یہ عمل منطقی انجام تک پہنچے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کے روز بہادرآباد میں واقع ایم کیوایم (پاکستان ) کے عارضی مرکز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل ، رابطہ کمیٹی کے اراکین فیصل سبزواری ، سردار احمد ، امین الحق ، عارف خان ایڈووکیٹ ، عبد الوسیم اور میئر کراچی وسیم اختر بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب بدعنوانی یا اس جیسے دیگر الزامات جن جن لوگوں پر ہیں ان کا بھی احتساب ہوگا ، محض عدالت عظمیٰ پر احتساب کیلئے انحصار نہیں کیا جانا چاہئے ، لوگوں کی توقعات بہت بڑھ گئی ہیں عدالت عظمیٰ سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ اسی طرح کے عمل کو قائم رکھ کر بدعنوانی ، لوٹ کھسوٹ ،ٹیکس چوری ، منی لانڈرنگ جیسے الزامات جن لوگوں پر بھی ہیں ان کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی ، عدالت عظمیٰ یہ عمل قائم رکھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی ، سینیٹ کو بھی اب جواب دہ ہونا ہوگا اور اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی اور ملک میں موثر ، خود مختار ، خود کفیل قانون ، ادارہ اور نظام وضع کرنا ہوگا تاکہ عدالت عظمیٰ ایک آئینی ادارے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کرے اور پارلیمان بھی ایک آئینی ادارہ ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کرے اس ساری صورتحال میں رسپانس کرے ، فرض پورا کرے اور عوام کی توقعات پر پورا اتر ے ۔ انہوں نے کہا کہ اہلیت اور نااہلی کی جو شقیں ہیں آرٹیکل 62، 63 کی ذیلی شق کا اطلاق کرکے کو نااہل قرار دیا گیا ہے اوراس سے پہلے 631Cمیں دوہری شہریت رکھنے والوں کو بھی نااہل قرار دیا گیا ایک اور شق جو سیدھی اورواضح ہے بس لسٹ نکالنے کی ضرورت ہے 621Nسپریم کورٹ کو بھی اس معاملے پر سوموٹو نوٹس لینا چاہئے کہ جن لوگوں نے قرضے لیکر معاف کرائے انہیں بھی نااہل قرار دیاجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ انہی اعمال سے انصاف اور احتساب صرف ہوگا نہیں بلکہ ہوتا نظر بھی آئے گا ، 631Nبہت ہی سادہاور سیدھا معاملہ ہے بینکوں سے لسٹیں نکال لینی چاہئے اور جن لوگوں نے قرضے لیکر کھائے انہیں نااہل قرار دیاجانا چاہئے اور انہیں سیاست اور الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو بھی نومنتخب وزیراعظم ہو وہ دیانتدار ہونا چاہئے ، پورے ملک کو ایک نظر سے دیکھے ، سب کو ساتھ لیکر چلے ، سندھ کے شہری علاقوں کے احساس محرومی کو بھی ایڈریس کرے یہ ہماری خواہش ہے ۔ سپریم کورت کے فیصلے کے بعد اور ملک کی داخلی اور سیاسی صورتحال کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں اور باالخصوص ملک کے عوام سے حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ملک میں سلامتی اور استحکام کو قائم رکھنے کیلئے ہر حال میں امن و امان کو برقرار رکھاجائے اور یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیاجائے ، اسی مظاہرے سے ملک آگے بڑھے گا اور اب ہمیں آگے بڑھنا چاہئے اور پاکستان کے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے یکسوئی سے اپنی توانائی خرچ کرنی چاہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا ایک اصولی موقف ہے کہ احتساب کا عمل کسی ایک فرد ، حکومت اور جماعت تک محدودنہیں رہنا چاہئے ، ہم نے واضح کیا ہے کہ کرپشن یا اسی طرح کے دیگر الزامات جن لوگوں پر بھی ان کا احتساب ہونا چاہئے ۔

Tags: , , , ,

More Stories From Top