Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

جولائی9 پاکستان کی تمام قومیتوں اوربرادریوں کے عظیم اوروسیع تراتحادکے آغازکادن ہے،سربراہ ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


جولائی9 پاکستان کی تمام قومیتوں اوربرادریوں کے عظیم اوروسیع تراتحادکے آغازکادن ہے،سربراہ ڈاکٹرمحمدفاروق ستار 
مخالفین ایم کیوایم کی تقسیم چاہ رہے تھے ، ہم نے منقسم پاکستان کی برادریوں کو جوڑ کر یکجا اور متحرک کردیا ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
ایم کیوایم حقیقی کی حمایت پر آفاق احمد کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، ان کے اس اقدام کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، ڈاکٹر محمدفاروق ستار
2018ء کے الیکشن میں لکھ لیاجائے کہ صوبے میں پی پی پی کا نام اور اس کا سی ایم نہیں ہوگا، سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان 
ہم غدار ہیں تو بچتا کون ہے ہم وہ ہیں جن کے آباؤ اجداد نے یہاں قدم رکھا تو ہندوستان پاکستان بن گیا، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
نیب کے کالے قانون کے خلاف ہماری پٹیشن تیار ہے ، گورنر سندھ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پٹیشن پر 
دستخط نہیں کریں، رکن رابطہ کمیٹی و قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن 
میں اس ضمنی لیکشن میں جب رات دن پھیرا اور تمام کی تمام برادریوں ، علمائے کرام ، مذاہب کے لوگوں نے مجھے عزت 
پیار اور محبت دی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں، نامزد امیدوار کامران ٹیسوری 
مجھے دھاندلی سے ہرانے کے بعد حلقہ کے عوام میں بہت غم و غصہ تھا میں نے سب کو سمجھایا کہ اگر سیٹ چاہئے تو
بدلہ نہ لیاجائے، رکن رابطہ کمیٹی و رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی 
الیکشن 9جولائی کو ہے لیکن جلسہ میں حلقہ پی ایس 114کے عوام نے ایم کیوایم کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے ، رکن رابطہ کمیٹی اسلم آفریدی
پی ایس 114کے ضمنی الیکشن پر دنیا کی نظر یں لگی ہوئی ہیں اور دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا طاقتور قوم بکھر گئی ہے یا 
کمزور ہوگئی ہے، رکن رابطہ کمیٹی و رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو
2010ء میں پیپلزپارٹی کا ایک ہوم منسٹر اس لئے لایا گیا کہ ایم کیوایم کو ختم کیاجائے، رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی 
پاکستان بناتو اس میں پنجابیوں ، سندھیوں، پٹھانوں ، بلوچوں نے بہت بڑا کردار ادا کیا لیکن سب سے اہم کردار 
مہاجر قوم نے ادا کیا، حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار شاہ 
کرسچن پیپلز الائنس اور مسیحی برادری 9جولائی کو ایمانداری کے ساتھ پتنگ پر مہر لگا کر ایم کیوایم پاکستان 
کو جتوائے گی ، مسیحی برادری کے ایم کیوایم کے حق میں دستبر دار ہونے والے امیداور رانا کھوکھر
آج یہ جلسہ نہیں بلکہ مخالف پارٹیوں کے ریفرنڈم ہے، ایم کیوایم کے حق میں دستبردار امیدوار راؤ وسیم 
پی ایس 114کے الیکشن کی انتخابی مہم کے اختتام پر محمود آباد شالیمار بیکری پر منعقدہ عظیم الشان انتخابی جلسہ عام کے شرکاء سے خطاب
کراچی ۔۔۔7، جولائی 2017ء
ایم کیوایم (پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہاکہ9جولائی پاکستان کی تمام قومیتوں اور برادریوں کے عظیم اور وسیع تر اتحاد کے آغاز کا دن ہے، مخالفین ایم کیوایم کی تقسیم چاہ رہے تھے ، ہم نے پی ایس 114میں منقسم پاکستان کی برادریوں کو جوڑ کر یکجا اور متحرک کردیا ہے،آج اس حلقہ میں ایک جماعت کی جلسی ہوئی ہے لیکن آج پی ایس 114کا سب سے بڑا جلسہ ایم کیوایم نے کیا ہے ۔ 9جولائی کا دن ایم کیوایم مخالفین کی دھلائی کا ہے ، ہم ماضی میں بھی دھلائی کرتے تھے اور دھنائی کا الزام ہم پر لگایا جاتا تھا ، ہم دھلائی کی آڑ میں ہی ایسی مار مارتے ہیں کہ وہ دھنائی کے برابر ہوتی ہے ، 9جولائی کا ضمنی الیکشن ایک ریفرنڈم ہے جس میں آپ کو آپ کی جیت کی بھاری اکثریت سے پیشگی مبارکباد دیتا ہوں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پی ایس 114کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے اختتام پر محمود آباد شالیمار بیکری کے روڈ پر منعقدہ عظیم الشان انتخابی جلسہ عام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ عام سے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، رابطہ کمیٹی کے رکن و سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن ، رکن رابطہ کمیٹی عبد الرؤف صدیقی ، اسلم آفریدی ، ہیر سوہو اور ایم کیوایم کے حق میں دستبردار ہونے والے مسیحی اور راجپوت برادریوں کے امیدواروں نے بھی خطاب کیا ۔ جلسہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فارو ق ستار نے کہاکہ پی ایس 114کاضمنی الیکشن ایک غیر معمولی واقعہ ہے یہ اس قدر غیر معمولی ہے کہ بات ایم کیوایم کی جیت کی نہیں ہے بلکہ پی ایس 114کا الیکشن 2018ء میں انتخابات کے فیصلے کا ٹریلر ہے جو 9جولائی کو چلے گا اور پوری فلم انشاء اللہ تعالیٰ 2018ء کے الیکشن میں چلے گی ۔ انہوں نے کہاکہ زحمت کی آر میں رحمت ، ہونے کیا جارہاہے ، کتنی باتیں واضح ہونے جارہی ہے ، سب سے پہلے تو یہ کہ یہ صرف الیکشن نہیں ہے جس جذبے کا میؤ ، پنجابی ، پختون ، راجپوت ، کرسچن برادریوں نے جس قدر والہانہ انداز میں ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار کا جس طرح استقبال کیا ہے میں یہ سمجھتاہوں کہ 9جولائی پاکستان کی تمام قومیتوں اور برادریوں کے عظیم اور وسیع تر اتحاد کے آغاز کا دن ہے اور قومی یکجہتی کے عظیم مظاہرے کا دن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مخالفین ایم کیوایم کی تقسیم چاہ رہے تھے ، ہم نے منقسم پاکستان کی برادریوں کو جوڑ کر یکجا اور متحرک کردیا ہے ، ہم نے قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کردیا اور سب کو ایک لڑی میں پیرو دیا اور یہ ملک پاکستان ہے لیکن پاکستانی قوم ابھی تک تشکیل کے مرحلے میں ہے ، ہم یہ بیڑا ٹھاتے ہیں کہ 9جولائی کے ضمنی ایکشن کے ذریعے پاکستان کو ایک پاکستانی قوم ہم دیں گے ، ساری اکائیوں ، قومیتوں اوربرادریوں کو صحیح معنوں میں برابر کے حقوق دلا کر ناانصافیوں کا خاتمہ کرکے ایک دوسرے کے دکھ اور درد میں شریک کرکے سب کو برابر کا حصہ ، روزگار، صحت اور تعلیم دیں گے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہم تحریک پاکستان کے جذبے کو اجاگر کررہے ہیں ، ہماری ایک جیت عظیم تر اتحاد ہے ، ہمارے بارے میں یہ تاثر ہے کہ ہم پاکستان کی ایک برادری کے نمائندے ہیں یہ مخالفین کا ہمارے لئے تعصب ہے ، جب نصرت اور کامیابی ہمارے قدم چومے گی تو فیصلہ کرلیاجائے کہ کون قومی اور علاقائی جماعت ہے ، یہ الیکشن فیصلہ کرے گا کہ ایم کیوایم حقیقی معنوں میں قومی جماعت ہے ، مہاجروں سمیت ہر زبان بولنے والے اگر کوئی قومی جماعت ہے تو وہ ایم کیوایم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ بھی فیصلہ ہوگا کہ قومی جماعت کا دعویٰ کرنے والوں کو کتنے ووٹ ملیں گے اور جسے علاقائی جماعت قرار دیا تھا اسے اس حلقہ سے کتنے ووٹ ملیں گے ؟ ۔ انہوں نے کہاکہ 2018ء کے الیکشن میں ایم کیوایم قومی جماعت بن کر ابھرے گی جس کا سہرا پی ایس 114کے عوام کو جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کامیابی اور جیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیاجائے کہ تمام جماعتیں ہم پر تنقید کررہی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہ رہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں خوف ایم کیوایم کے ووٹر اور سپورٹرز سے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان میں واحد جماعت ہے جو نظریاتی سیاست کررہی ہے باقی مفادات کی سیاست کررہی ہیں ۔ ایم کیوایم (پاکستان ) کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہاکہ ہم بارہا جلسوں اورپریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ یہ ایم کیوایم ہے اس کو کمزور اورلوٹ کا مال نہ سمجھو ، تم نے تین سال آپریشن کیا ، ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا ، 160سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں ، 60سے زیادہ کارکنان ماورائے عدالت قتل کئے گئے ، تین سال سے در بدر کارکنان اپنے گھروں پر نہیں سورہے تھے ، اس اسٹیج سے آج پھر کہ رہا ہوں کہ تم تین سال اور آپریشن کرو ایم کیوایم کو ختم نہیں کرسکو گے ، اس لئے ختم نہیں کرسکو گے کہ اس میں غریب و متوسط طبقے کے لوگ موجود ہیں اور عوامی طاقت کو کبھی دبایا نہیں جاسکتا اور عوام اپنے حقوق کیلئے سر اٹھائے گی اور بار بار اٹھائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ 9جولائی کو الیکشن کیلئے برساتی مینڈک نکل کر آگئے ہیں ایک پیٹی پٹائی جماعت ہے اور ایک پی پی پی جتنا چاہے پیو ، ان وڈیروں اورجاگیرداروں نے عوام کا خون چوس رکھا ہے ، اربوں روپے کھا گئے ہیں عوام کو کچھ نہیں کہتے ، نوکریاں بیچتے ہیں ، چیف جسٹس نے کیا خوب کہا کہ ڈائن بھی اپنا گھر چھوڑ دیتی ہے ، ایجوکیشن کے حوالے سے پوری رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ گھوسٹ ملازمین بھرتی کئے گئے ہیں ، تم اپنے علاقوں سے فرسودہ کاروکاری کی رسم ختم نہیں کرسکے یہ اپنی خواتین پر ظلم کرتے ہیں ، 9جولائی کا الیکشن 2018ء کے الیکشن کی ابتداء ہے ، 2018ء کے الیکشن میں لکھ لیاجائے کہ اس صوبے میں پی پی پی کا نام اور سی ایم نہیں ہوگا اور ان سے واٹر بورڈ ، بلدیہ ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ، بلڈنگ کنٹرول اور صوبہ سندھ کے جو ایگزیکٹو اختیارات ہیں وہ گلے میں ہاتھ ڈال کر چھین لیں گے ، کسی بھول میں نہ رہا جائے بلاول کو لاکر کوئی جلسہ کامیاب کرلو یاد رکھو کراچی کی عوام ایم کیوایم کے ساتھ ہیں اور رہیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ چوہدری اکرم گجر ، طار ق ہاشمی اور دیگر نے ایم کیوایم کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور تمام قومیتوں کے لوگ ایم کیوایم کے امیدوار کو کامیاب کرائیں گے ۔ ایم کیوایم (پاکستان ) کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ کراچی، پاکستان کا دل ہے یہ دھڑکتا ہے تو ہماری آنکھوں میں خواب اترتے ہیں ، کراچی چلتا ہے تو ملک پلتا ہے ہم نے پاکستان کا خواب ہی نہیں دیکھا تعبیر بھی دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پی ایس 114کے حلقہ کو کوئی ہلکا نہ لے ، سارے گدھ آئیں ہیں جو بھوکے جائیں گے ، انشاء اللہ تعالیٰ یہ علاقہ کراچی کی طرح کراچی منی پاکستان ہے تو یہ منی کراچی ہے ، کراچی کا فیصلہ پاکستان کا فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء میں الیکشن ہوئے تھے تو آپ نے ووٹ دیئے تو اب کیوں الیکشن ہورہے ہیں ؟ کسی نے غیرت کا مظاہرہ کرکے استعفیٰ تو نہیں لیا پھر یہ سیٹ خالی کیوں ہوئی ہے یہ سیٹ دھاندلی کی وجہ اور آپ کا مینڈیٹ چرانے کے باعث ہوئی ہے ، ماضی میں آپ کے فیصلے پر جو ڈکیتی ڈالی گئی اس کا مقدمہ ایم کیوایم نے لڑا ، الیکشن کمیشن نے تحقیقات کی اور دھاندلی کا اعتراف کیا اور آج یہ الیکشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہورہا ہے اور حلقہ کے عوام کو انصاف ملنے جارہا ہے ، 9جولائی کو آپ کو انصاف ملے گا اور تحریک انصاف کو کچھ نہیں ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ دھاندلی سے جتنے والا امیدوار سمجھ دیا اور میدان چھوڑ گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم غدار ہیں تو بچتا کون ہے ہم وہ ہیں جن کے آباؤ اجداد نے یہاں قدم رکھا تو ہندوستان پاکستان بن گیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس کے اصل وارثوں کے حوالے کرنا ہے تو 9جولائی کا ضمنی الیکشن بہت اہم ہے ۔رابطہ کمیٹی کے رکن اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ پی ایس 114کے ضمنی الیکشن میں ایم کیوایم تین حکومتوں سے ٹکرا رہی ہے جن میں ایک وفاقی حکومت ، دوسری کے پی کے کی حکومت اور تیسری کرپٹ ترین بدترین سندھ حکومت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے پیر کانپ رہے ہیں ، پوری پیپلزپارٹی پی ایس 114میں اتری ہوئی ہے آج سے پہلے یہ کبھی حلقہ پی ایس 114کی گلیوں میں نہیں گئے ہم نے ان کی دوڑیں لگوا دی ہیں ، محمود آبادکے عوام خود پریشان ہیں کہ پی پی پی کا سینیٹر یہاں کب پیدا ہوا تھا ۔انہوں نے کہاکہ آج ضمنی الیکشن میں حکومت سندھ نے اپنی مرضی کے آر او ، پریزائڈنگ لگا کر دھاندلی کرلی ہے ، غنڈہ گردی اور ریاستی طاقت کا استعمال کرکے یہ الیکشن جتنا چاہتے ہیں، حکومت سندھ کو اضح پیغام دیتا ہوں کہ آپ کی ذمہ داری الیکشن کو منصفانہ کرانا ہے اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو 2018ء میں ہزاروں جے آئی ٹیز بننے والی ہیں اور پیپلزپارٹی اور ان کا ساتھ دینے والے تمام کرپٹ افسران کو جے آئی ٹیز میں شامل کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے والے امیداروں کو ہراساں کیاجارہا ہے ، ان کے علاقوں کے پانی بند کئے جارہے ہیں لیکن 9جولائی کو ہار ان کا مقدر ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب کے کالے قانون کے خلاف ہماری پٹیشن تیار ہے ، گورنر سندھ کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پٹیشن پر دستخط نہیں کریں ، ہم جمہوریت کو کمزور اورکرپشن کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے ، پوری پیپلزپارٹی نیب کو مطلوب ہے ۔ نامزد حق پرست امیدوار کامران ٹیسوری نے کہاکہ جب میں نے اس الیکشن مہم کا کا آغاز کیا تو آج بتا رہا ہوں کہ جو پیار آپ نے مجھے دیا ہے صبح کی نماز پڑھنے کے بعد میری آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے ۔ میں دعا کرتا تھا کہ یا اللہ تعالیٰ مجھ سے کوئی ایسا وعدہ نہیں کراناجو میں پورا نہ کرسکوں۔انہوں نے کہاکہ میں اس لیکشن میں جب رات دن پھیرا ہوں تمام کی تمام برادریوں ، علمائے کرام ، مذاہب کے لوگوں نے مجھے عزت پیار اور محبت دی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ 9جولائی الیکشن کا دن ہے کیا سب 9جولائی کو اپنے گھروں سے نکل کر میرے ساتھ اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن میں پتنگ کو ووٹ دیں گے تو شرکاء نے ہاتھ اٹھا کر بتایا کہ ضرور دیں اور دعا بھی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا ، کارکنوں کو جھنڈا لگاتے ہوئے تشدد کیا گیا لیکن میں نے اور ایم کیوایم نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ میں صرف ایک وعدہ حلقہ کی عوام سے کیا ہے کہ 9جولائی کو کامیابی کے بعد آپ کے درمیان رہ کر اس حلقہ کے تمام مسائل حل کرانے میں رات دن ایک کروں گا ، آپ کے اور میرے پاس اس وعدے کو پورا کرنے کیلئے 8سے 9مہینے ہیں اگر کوئی وعدہ پورا نہ ہو تو 2018ء کے الیکشن میں ووٹ نہ دیں۔ رابطہ کمیٹی کے رکن و رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی نے کہاکہ میں اس جلسے کا سفر 11مئی 2013ء سے شروع کرتا ہوں جب سارے دن کے الیکشن میں تین چار بجے دوپہر کے قریب مجھے بتایا گیا کہ پندرہ اور سترہ ہزار کے درمیان جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں ، جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ الیکشن ہم سے چھین لیا گیا ہے ، تن من دھن لگا کر عوام نے یہ الیکشن مجھے جتوایا تھا ، اسی رات مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، میں اس لئے یہاں موجود رہا کہ خون خرابہ نہ ہوا اور کسی کی جان ضائع نہ ہو ۔انہوں نے کہاکہ دھاندلی سے ہرانے کے بعد حلقہ کے عوام میں بہت غم و غصہ تھا میں نے سب کو سمجھایا کہ اگر سیٹ چاہئے تو بدلہ نہ لیاجائے۔ رکن رابطہ کمیٹی اسلم آفریدی نے کہاکہ الیکشن تو 9جولائی کو ہے لیکن آج کے جلسہ میں حلقہ پی ایس 114کے عوام نے ایم کیوایم کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے ، جتنے بھی جاگیردار اوروڈیرے آجائیں لیکن حلقہ پی ایس 114کے عوام کل بھی ایم کیوایم کے ساتھ تھے اور آج بھی ہیں ، چنیسر گوٹھ کے وڈیرے سن لیں کہ حلقہ کے عوام نے آج ہی فیصلہ دیدیا ہے اور مخالف جماعتوں کو شکست دیدی ہے جس پر میں جلسہ کے شرکاء کو پیشگی طور پر دلی مبارکباد دیتا ہوں۔رکن رابطہ کمیٹی و رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیرسوہو نے کہا کہ پی ایس 114کے ضمنی الیکشن پر دنیا کی نظر یں لگی ہوئی ہیں اور دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا طاقتور قوم بکھر گئی ہے یا کمزور ہوگئی ہے ، حلقہ کے عوام نے 9جولائی کو بتانا ہے کہ یہ قوم بکھری نہیں ہے نکھری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ضمنی الیکشن عام نہیں ہے ، یوسی 4کی مثال دیکھ لیں جس کا چیئرمین پیپلزپارٹی کا ہے جب پیپلزپارٹی نے چار سالہ حکومت میں ایک یوسی کو نہیں بنایا وہ آئندہ کیا کریں گے ۔ حق پرست رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے کہا کہ 2010ء میں بلدیاتی نظام جو جمہوریت کی نرسری ہے اسے لپیٹ دیا گیا اور بیورو کریسی کے حوالے کردیا گیا جس کی وجہ سے کرپشن برقرار رہی اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ جیبوں میں جانا شروع ہوگیا ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، سالٹ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سندھ حکومت کے پاس ہے اس کے باوجود ایم کیوایم کے نمائندوں نے لوگوں سے رابطے رکھے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کی ۔2010ء میں پیپلزپارٹی کا ایک ہوم منسٹر اس لئے لایا گیا کہ ایم کیوایم کو ختم کیاجائے ۔حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار شاہ نے کہاکہ 9جولائی کا دن ہمارے مستقبل کا دن ہے ، پاکستان جب بننے لگا تو اس میں پنجابیوں ، سندھیوں، پٹھانوں ، بلوچوں نے بہت بڑا کردار ادا کیا ، سب سے اہم کردار مہاجر قوم نے ادا کیا کیونکہ انہوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر پاکستان کی خاطر سب کچھ قربان کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہجرت کرنے والوں میں راجپوت ، عباسی ، مئیو ، انصاری ، مغل ، راؤ ، مارواڑی اور چھیپا برادری شامل تھے ان سب نے پاکستان میں ظلم وستم سہہ کر قدم رکھا ۔
مسیحی برادری کے ایم کیوایم کے حق میں دستبر ہونے والے امیدوار رانا کھوکھر نے کہا کہ میں نے حق پرست امیدوار کامران ٹیسوری کی حمایت کا اعلان کیا ہے ، حکومت سندھ میں مسیحی برادری کی کوئی سیٹ نہیں ہے جو ہماری آواز کو حکومت اور ایوانوں تک لے کر جائے ۔انہوں نے کرسچن پیپلز الائنس اور مسیحی برادری کی جانب سے یقین دلایا کہ ہم 9جولائی کو ایمانداری کے ساتھ پتنگ پر مہر لگا کر ایم کیوایم پاکستان کو جتوائیں گے ۔ ایم کیوایم کے حق میں راؤ اورراجپوت برادری کے دستبردار ہونے والے نامزدآزاد امیدوار راؤ وسیم نے کہا کہ آج پی ایس 114کی غیور عوام نے ایم کیوایم (پاکستان ) کے امیدوار کامران ٹیسوری کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے آج یہ جلسہ نہیں بلکہ مخالف پارٹیوں کے ریفرنڈم ہے ، انشاء اللہ العزیز 9جولائی کو رسمی مٹھائی کھائیں گے ، آج 114کی تمام برادریوں نے ایم کیوایم کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے ڈسٹرکٹ انچارج ایسٹ حافظ اسامہ قادری نے کہاکہ محمود آباد شہر میں وہ جگہ ہے جو گلدستہ کی مانند ہے اور یہاں پاکستان کی تمام قومیتوں کے لوگ بھر پور تعداد میں رہتے ہیں ، یہاں کی برادریوں نے آج شاندار اور عظیم الشان جلسہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ حلقہ پی ایس 114کے عوام متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ شانہ بشانہ چل رہے ہیں ۔
ٹاؤن انچارج محمود آباد عامر شاہ نے کہا کہ حلقہ پی ایس 114کے کارکنان و عوام نے چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں کو بھی جلسہ میں تبدیل کردیا ، آج مخالف پارٹی نے جلسہ کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں وہ ہمارے جلسہ کے ریلے کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
*****

Tags: ,

More Stories From PS-114 Election Campaign