Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

ہمارایہ گمان یقین میں تبدیل ہوگیاہے کہ آراوصاحب صوبائی حکومت سے کہیں نہ کہیں ڈکٹیشن لے رہے ہیں،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


ہمارایہ گمان یقین میں تبدیل ہوگیاہے کہ آراوصاحب صوبائی حکومت سے کہیں نہ کہیں ڈکٹیشن لے رہے ہیں،سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار 
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24تاریخ کو پولنگ اسکیم فائنل کی ، ہمیں پولنگ اسکیم نہیں دی گئی اورہمیں پولنگ اسکیم عید کی چھٹیوں کے بعد دی گئی، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
الیکشن کمیشن نے ہمارے اعتراض کو بلڈوز کردیا ، ہمیں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے شکوہ ہے کہ وہ اوپری سطح پر الیکشن میں بڑی جماعتوں کا موہون منت ہے، ڈاکٹرمحمد فارو ق ستار
بلوچ کالونی اور محمود آباد کے ایس ایچ او کھلم کھلا علاقے میں لوگوں کو ڈرا رہے ہیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
یوسی 4کے ایم کیوایم کے کارکن عباس کو گڈاپ کے ایس ایچ او نے کام نہ کرنے کی وراننگ دی اور دھمکی دی کہ تم تو علاقے میں ہی رہو گے اگر تم نے سعید غنی کیلئے کام نہیں کیا تو پھر الیکشن کے بعد دیکھ لیں گے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
قومی سطح پر جو بڑی جماعتوں کا مک مکا ہے اسی مک مکے کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان جانبدار ہوکر ہمارے امیدوار کو زبردستی نقصان پہنچا رہا ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
ہمیں اطلاعات ہیں کہ ہمارے اکثریتی حلقوں میں جان بوجھ کر پریزائڈنگ افسر کو دیر سے بھیجا جائے گا ، نامزد امیدوار کامران ٹیسوری 
پولنگ دیر سے شروع کی گئی ، ووٹر کاتناسب ہلکا کیا گیا تو کان کھول کر سن لیاجائے کہ حلقہ کے عوام سڑکوں پر ہوں گے ا،اگر ایسی کوئی بھی کوشش کی گئی تو امن وامان کا مسئلہ بھی حکومت سندھ خود سنبھالے گی، کامران ٹیسوری 
حلقہ پی ایس 114کے علاقے محمود آباد نمبر 1تاج مسجد پر منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔5، جولائی 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ حلقہ پی ایس 114کے ضمنی الیکشن میں ایم کیوایم کو ملنے زبردست عوامی پذیرائی کے ب اعث سندھ حکومت ، پیپلزپارٹی اور ان کا امیدوار سعید غنی حواس باختہ ہے جس کی وجہ سے وہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 24تاریخ کو پولنگ اسکیم فائنل کی ، ہمیں پولنگ اسکیم نہیں دی گئی اورعید کی چھٹیوں کے بعد دی گئی ، پولنگ اسکیم پر ہم نے 21جون کو اعتراضات داخل کردیئے تھے ، آر او لیول پر ان اعتراض کوخاطر میں نہیں لایا گیا ، ہمارے اعتراض کے باوجود پولنگ اسکیم اپنی مرضی کی جاری کی گئی ، ہمارا یہ گمان یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ آر او صاحب صوبائی حکومت سے کہیں نہ کہیں ڈکٹیشن لے رہے ہیں ،کم از کم 11پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جو ہمارے علاقوں میں ہیں جن میں گڑ بڑ ہے ، محمدی اسکول میں دو پولنگ اسٹیشن بنائے گئے یہ قبل از ووت دھاندلی ہے اور یہ الیکشن کمیشن کی جانبداری کا معاملہ ہے ۔ ہم نے پہلے اس ایشو کو اس لئے نہیں اٹھایا کہ ہم الیکشن کمیشن گئے تھے ، لیکن الیکشن کمیشن نے ہمارے اعتراض کو بلڈوز کردیا ، ہمیں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے شکوہ ہے کہ وہ اوپری سطح پر الیکشن میں بڑی جماعتوں کا موہون منت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز محمود آباد نمبر 1تاج مسجد کے مقام پر منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی ، اراکین رابطہ کمیٹی شبیر احمد قائم خانی ، زاہد منصوری ، ارشاد ظفیر ، شکیل احمد ، راشد سبزواری ، نامزد حق پرست امیدوار برائے پی ایس 114کامران ٹیسوری ، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے انچارج حافظ اسامہ قادری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تمام امیدوار اپنی کوشش کررہے ہیں ، ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی ہورہی ہے کہ ہمارے امیدوار کامران ٹیسوری اور ان کے ساتھ ہمارے رضاکار ، کارکنان ، ہمارے حامی اور اس علاقے کے ووٹر وہ پوری تند دہی کے ساتھ ، جانفشانی کے ساتھ ، بڑی محنت اور لگن کے ساتھ گھر گھر عوام سے رابطہ کررہے ہیں اور کئی کارنر میٹنگ کا انعقاد کیاجاچکا ہے ، اب تک کی صورتحال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انتہائی اطمینان بخش ہے ، موبلائزیشن سے واضح نظر آرہا ہے کہ 9جولائی کو حلقہ کے عوام کا صحیح حقیقی نمائندہ منتخب ہوکر ان کی خدمت پر مامور ہوگا ، ایم کیوایم پاکستان انشاء اللہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی ۔ حلقہ پی ایس 114کے عوام چار سال سے ایم کیوایم کے حقیقی نمائندے سے محروم تھے ، اب وقت آرہا ہے کہ انہیں ان کا حقیقی نمائندہ 9جولائی کو میسر آجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کے بڑے سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری کا استعمال کررہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں سے خاص طور پر پولیس مکمل طور پر صوبائی حکومت اور پیپلزپارٹی کے امیدوار کے حق میں ہے اورایم کیوایم کے کارکنان اور ذمہ داروں کو ہراساں کررہی ہے اور اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بلوچ کالونی کا ایس ایچ او ، محمود آباد کا ایس ایچ او کھلم کھلا علاقے میں لوگوں کو ڈرا رہے ہیں لیکن یوسی 4کے ایم کیوایم کے کارکن عباس کو گڈاپ کے ایس ایچ او نے کام نہ کرنے کی وراننگ دی اور کہا کہ تم تو علاقے میں ہی رہو گے اگر تم نے سعید غنی کیلئے کام نہیں کیا تو پھر الیکشن کے بعد دیکھ لیں گے؂ ۔ اسی طرح اور کارکنان اور ذمہ داران ہیں جن کے نام نہیں لے سکتے ، وہاں یہ کام ہورہاہے ، چنیسر گوٹھ میں ہمیں انتخابی مہم چلانے نہیں دی جارہی ہے ، کارکنوں اور حامیوں کو روکاجارہا ہے ، سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہے اور کھلم کھلا کہ دیا گیا ہے کہ ایم کیوایم کا کام چنیسر گوٹھ میں کوئی کام نہیں ہے ،، پولنگ ایجنٹ نہیں بیٹھنے دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ یوسی 6میں پولیس سول کپڑوں میں لوگوں کو الیکشن مہم کے دوران پریشان کررہی ہے ، یوسی 3کا منتخب چیئرمین عبد الخالق ایم کیوایم کے کارکنان کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اس علاقے میں اگر نظر آئے تو پولیس سے غائب کروادیں گے اور یوسی میں کوئی انتخابی مہم چلنے نہیں دی جائے گی ۔ اسی طرح کل بھی اے این پی کا امیدوار ہے یا تھا امان اللہ محسود ٹی پی 2کے علاقے میں گیا اور لوگوں کو ڈرایا کہ آپ کے علاقے کی لیز کا مسئلہ ہے ، اگر پی پی پی کا ساتھ نہیں دیا تو آپ کو لیز نہیں ملے ایم کیوایم کی واضح کامیابی کو دیکھ کر عوام کی پذیرائی کو دیکھ کر یہ صورتحال صوبائی حکومت کے سامنے آرہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی عدالتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور الیکشن کمیشن پاکستان ذرا بھی غیر جانبدار ہے اوراسے قائم رکھنا چاہتا تو انتظامیہ ، پولیس اور سرکاری مشینری اور وسائل کی مداخلت کو روکے ،جب ہم نے انصاف مانگا تو ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قومی سطح پر جو بڑی جماعتوں کا مک مکا ہے اسی مک مکے کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان جانبدار ہوکر ہمارے امیدوار کو زبردستی نقصان پہنچا رہا ہے، ہمارے ووٹر کو پولیس ڈرا رہی ہے ، انتظامیہ من مانی کررہی ہے ، اب ترقیاتی کام یاد آرہے ہیں ، اس کے باوجود ہم میدان میں کھڑے ہیں ، ہم عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں ، ہمارا محمود کالونی ، منظور کالونی ، اعظم بستی ، ایڈمنسٹریشن سوسائٹی ، ڈیفنس ٹو اور چنیسر گوٹھ کے ووٹر اور حامیوں پر پورا اعتماد اور یقین ہے کہ وہ صبح 8بجے بلکہ 7بجے سے پولنگ اسٹیشنوں پر قطار میں کھڑے ہوں گے اور اگر کہیں پولنگ ہلکی ہوئی تو ہم احتجاج کریں گے، پولنگ ہلکی نہیں ہونی چاہئے ، پولنگ اسٹیشنوں پر کوئی وائلنس مسلط کرنے کی کوش کرتا ہے تو قانون نافذ کرنیو الے اداروں اور الیکشن کمیشن کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے ، ہماری بھاری اکثریت سے کامیابی کو نقصان کو پہنچانے کیلئے اور کامیابی کے مارجن کو کم کرنے کیلئے صوبائی حکومت بھی میدان میں اتر گئی ہے ، 7جولائی بروز جمعہ کو ایک بڑا جلسہ رکھا تھا ، ہم نے پہلے درخواست دی ، پی پی پی نے ہمارے بعد درخواست دی اور ان کا پانچ جولائی کو پروگرام تھا انہوں نے بعد میں 7جولائی کو منتخب کیا انہیں اجازت مل گئی اور ہمیں نہیں ملی یہ بھی ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ناانصافی ہوئی اس پر بھی سراپا احتجاج ہے، اس کے باوجود ہم جلسہ کریں گے 7جولائی کو ہی کریں گے لیکن حلقہ میں کسی اور علاقے میں کریں گے لیکن انتخاب کی ریس سے باہر نہیں ہوں گے اور انتخاب لڑیں گے اور بھرپور طریقے سے لڑیں گے ، مشکلات اور رکاوٹ ہیں تاہم ہمارے جذبے اور عزم لامحدود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب ہمار اجلسہ شالیمار بیکری یوسی 2پر ہوگا ، 7کا جلسہ بتا دے گا کہ بازی کون جیت رہا ہے ۔ انہوں نے حلقہ کے عوام ، نوجوانوں ، بزرگوں ،خواتین اور بچوں سے اپیل کی کہ اب پی ایس 114ہمارے لئے اہم ہے ، یہ حلقہ انشاء اللہ 2018ء کے الیکشن کا پریکٹس میچ ہے ، اصل میچ 2018ء میں ہوگا ۔ نامزد حق پرست امیدوار کامران ٹیسوری نے کہاکہ پولنگ اسٹیشن نمبر 17حلقہ منظور کالونی میں 2ہزار ووٹر ہے لیکن لائٹ نہیں ہے ، پولنگ اسٹیشن 28میں لائٹ نہیں ہے ، پولنگ اسٹیشن 92میں فرنیچر اور لائٹ نہیں ہے اور برابر میں منشیات کا اڈا ہے ، یہ وہ ظلم اور طریقہ کار ہے جس کے تحت یہ چاہتے ہیں کہ جو ہمارا ووٹر ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہتا ہے اوچھے ہتھکنڈوں سے اسے ووٹ کا حق استعمال کرنے سے دور رکھاجائے ، میں الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ حربے ہیں جس کے تحت وہ ہمیں ہرانے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ عوامی طاقت سے وہ ہمیں نہیں ہرا سکتے اگر ان کے ساتھ عوام ہوتی تو وہ ایک پولنگ اسٹیشن میں چار چار پولنگ اسٹیشن نہیں ڈالتے ، نہ لائٹ کٹی ہوتی اورفرنیچر بھی موجودہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے ایسے رہنما ہیں جن کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے حالانکہ ہمیں دھمکیاں ہیں اس کے باوجود یہ اس لئے کیاگیا کہ وہ ہمارے لوگوں کو خوفزدہ کرسکیں ، انتخابی عمل میں کام کرنے سے روک سکیں ، اس ضمنی الیکشن کو آر او الیکشن بنانا چاہتے اور اس کیلئے ہر حربہ استعما لکر رہے ہیں ، آر اور اور ڈی آر او دونوں سے میں ملا ہوں دونوں کا رویہ غیر مناسب ہیں وہ بالا ہی بالا میٹنگ کررہے ہیں اور وہ کام کررہے ہیں جو سعید غنی ڈکٹیٹ کراتا ہے وہ آر او کے سامنے اس طرح سے بیٹھے ہیں جیسے آر او ان کا ذاتی ملازم ہے ، کمرہ بند کرکے میٹنگ کررہے ہیں ہمارے پاس ثبوت ہیں ، اگر ہمارے ساتھ انہوں نے باریک کام کیا اور سرکاری مشینری استعمال کی ، آر او کو استعمال کیا جیسا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ جو ہمارے حلقے ہیں جن میں ہمارے ووٹر زیادہ ہیں وہاں پر جان بوجھ کر پریزائڈنگ افسر کو دیر سے بھجیں گے اور پولنگ دیر سے شروع کروائیں گے ، ووٹر کے تناسب کو ہلکا کریں گے اگر ایسا کیا تو کان کھول کر سن لیاجائے کہ حلقہ کی عوام جاگ چکی ہے یہ سب روڈوں پر ہوں گے اور اگر ایسی کوئی بھی کوشش کی گئی تو امن وامان کا مسئلہ بھی یہ خود سنبھالیں گے کیونکہ ووٹر اپنے حق کو استعمال کرنے سے نہیں رکیں گے ، کیونکہ چار سال تک پہلے ہی ان کے منتخب نمائندے کو دور رکھا گیا ہے ، چار سال کے بعد سپریم کورٹ سے ہماری فتح ہوئی اور ضمنی الیکشن ہورہا ہے ، سیاست کرکے اور آر او کواستعمال کرکے حلقہ کی عوام کو دور رکھیں تو اس پر میڈیا کو نظر رکھنی ہے اور دکھانا ہے کہ یہ کس طریقے یہ الیکشن کو آر او الیکشن بنانا چاہتے ہیں

Tags: ,

More Stories From Feature News