Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

پی ایس 114ایک اوراین اے 246ثابت ہوگااوریہ سلسلہ 2018 ء تک چلے گا،سربراہ ایم کیوایم(پاکستان)ڈاکٹرفاروق ستار


پی ایس 114ایک اوراین اے 246ثابت ہوگااوریہ سلسلہ 2018 ء تک چلے گا،سربراہ ایم کیوایم(پاکستان)ڈاکٹرفاروق ستار
تیروں کا مقابلہ جگرسے ہے اور کل بھی جگر والی پتنگ جیتی تھی اور آج بھی پتنگ ہی جیتے گی، سربراہ ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر فارو ق ستار
سندھ کے ہاری، کسان اور غریب عوام جان گئے ہیں کہ سندھ حکومت کا صرف لوٹ کھسوٹ کا ایجنڈا ہے، ڈاکٹر فارو ق ستار
اس حلقے کا پیدائشی ہونے کا دعویدار امیدوار کی جماعت گزشتہ 9 سالوں سے مسلسل برسراقتدار ہے لیکن انہوں نے اس حلقے کے عوام کیلئے کچھ کیوں نہیں کیا، نامزد حق پرست امیدوار PS-114 کامران ٹیسوری
پی ایس 114 میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی پزیرائی اور اپنی یقینی ہار کو دیکھتے ہوئے حکومت سندھ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، حق پرست رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی
اس کارنر میٹنگ کا ایک جلسہ میں تبدیل ہوجانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کو پی ایس 114 کے عوام کا مکمل اعتماد حاصل ہے، حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار شاہ 
پی ایس 114 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے نامزد حق پرست امیدوار کامران ٹیسوری کی انتخابی مہم کے سلسلے میں فرنیچر مارکیٹ میں منعقدہ کارنر میٹنگ کے شرکاء سے مقررین کا خطاب

کراچی ۔۔۔ 04، جولائی 2017ء
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے نامزد حق پرست امیدوار کامران ٹیسوری کی انتخابی مہم کے سلسلے میں فرنیچر مارکیٹ میں بڑی کارنر میٹنگ کا نعقاد کیا گیا۔ جس میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، سینئر ڈپٹی کنونیر عامر خان، اراکین رابطہ کمیٹی، حق پرست اراکین اسمبلی، حق پرست بلدیاتی نمائندگان، ڈسٹرکٹ اور یوسیز کے ذمہ داران و کارکنان سمیت بڑی تعداد میں حلقہ پی ایس 114 کے نوجوان، بزرگ،خواتین اور بچے شامل تھے۔ اس موقع پر کارنر میٹنگ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ تیروں کا مقابلہ جگروں سے ہے اور کل بھی جگر والی پتنگ جیتی تھی اور آج بھی پتنگ ہی جیتے گی۔ شہر سے کچرا اٹھانے اور نکاسی آب کے کام میئر کے ہیں حکومت سندھ کراچی کے میئر کو اختیارات اور وسائل فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ، بلڈنگ کنٹرول، سولڈ ویسٹ اور وہ تمام ادارے جو سندھ حکومت نے بلدیاتی حکومت سے چھینے ہیں وہ واپس کئے جائیں۔ شہر کو چلانے کیلئے بلدیاتی حکومت کو بلدیاتی فنڈز دےئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں جو تم نے چھینا ہے اگر آج نہیں دو گے تو کل جو تمہارے پاس ہے وہ بھی تمہارے پاس نہیں رہے گا، اگلا وزیر اعلیٰ ہمارا ہوگا۔ کوئی لاکھ برا چاہئے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو NA-246 میں ہوتا ہے۔PS-114 ایک اور NA-246 ثابت ہوگا اور یہ سلسلہ 2018 ء تک چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم پی ایس 114 کی چھینی ہوئی سیٹ واپس لائے ہیں انشاء اللہ جلد ہی ہم تمام چھینے ہوئے حقوق بھی واپس لائیں گے۔ آپ کے تعاون اور اتحاد و یکجہتی سے ہم مسائل حل کردئینگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ 09، جولائی سے ظالموں کے احتساب کا آغاز ہوگا۔ ایک جے آئی ٹی اسلام آباد میں بیٹھی ہے اور ایک جے آئی ٹی میرے سامنے یہاں پی ایس 114 میں بیٹھی ہے جو سندھ کے ظالموں اور لٹیروں کا احتساب کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی محنت مزدوری کی کمائی کو اپنی عیاشیوں میں اڑانے والوں سے احتساب لینے کیلئے عوام تیار ہے۔ سندھ کے ہاری، کسان اور غریب عوام جان گئے ہیں کہ سندھ حکومت کا صرف لوٹ کھسوٹ کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے دور میں ہی حلقہ PS-114 کے عوام کو درپیش لیز کے مسائل حل کئے گئے اور باقی مسائل بھی ایم کیو ایم (پاکستان) ہی حل کرئیگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے تمام اراکین اسمبلی سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے لیکن ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ایم کیوایم (پاکستان) کے کسی رہنما یا رکن اسمبلی پر کوئی حملہ ہوا تو اس کی پوری ذمہ داری سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ پر ہوگی۔ نامزد حق پرست امیدوار برائے حلقہ پی ایس 114 کامران ٹیسوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کی اعلیٰ قیادت نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے میری پوری کوشش ہوگی کہ میں اس پر ہورا اتروں۔ اس حلقے میں وہ عوام اور بزرگ رہتے ہیں کہ جو ناصرف دعائیں دیتے ہیں بلکہ انتخابات میں اپنے ووٹ بھی ایم کیو ایم (پاکستان) کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس 114 کے رہنے والے انتہائی خوش اخلاق اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ میں روائتی سیاستدان نہیں ہوں اسلئے میں ان کی طرح وعدے نہیں کرتا لیکن میں ایک وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ میں اپنے حلقہ PS-114 کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہوں گا۔ میں حلقے کے عوام کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے اپنی جی جان سے کوشش کروں گا اور اسے حل کراکر ہی دم لونگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حلقے کا پیدائشی ہونے کا دعویدار امیدوار کی جماعت گزشتہ 9 سالوں سے مسلسل برسراقتدار ہے لیکن انہوں نے اس حلقے کے عوام کیلئے کچھ کیوں نہیں کیا۔ ایم کیوا یم (پاکستان) واحد جماعت کے جس کے منتخب نمائندے اور تنظیمی ذمہ دارن عوام کی ایک کال پر موجود ہوتے ہیں۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حق پرست رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی نے کہا کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ کے تینوں جج صاحبان نے آپ کا حق آپ کو واپس دلوایا ہے۔ حلقہ پی ایس 114 کیلئے کامران ٹیسوری کی نامزدگی میرے لئے بھی خوشی کی بات تھی۔ اس سے قبل کامران ٹیسوری سے میری دو مرتبہ ملاقات ہوئی اور دونوں مرتبہ خانہ کعبہ میں غسل کعبہ کے وقت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کامران ٹیسوری کے دل میں خوف خدا ہے اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے جو کچھ بھی کامران ٹیسوری کے بس میں ہوگا وہ ضرور کرئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس 114 میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی پزیرائی اور اپنی یقینی ہار کو دیکھتے ہوئے حکومت سندھ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اسی بوکھلاہٹ میں سندھ حکومت نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے تمام منتخب اراکین اسمبلی سے سیکیورٹیز واپس لے لیں ہیں۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) ایک بار پھر پی ایس 114 سے تاریخی فتح حاصل کریں گی۔ اس کارنر میٹنگ کا ایک جلسہ میں تبدیل ہوجانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کو پی ایس 114 کے عوام کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حلقہ پی ایس 114 میں فوج کی نگرانی میں انتخابات کرانے کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

Tags: ,

More Stories From PS-114 Election Campaign