Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

پانامہ کیس سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے،ڈاکٹر محمدفاروق ستار کنوینر ایم کیوایم پاکستان


پانامہ کیس سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے،ڈاکٹرمحمدفاروق ستارکنوینرایم کیوایم پاکستان
پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کارڈ کا استعمال کرکے ساڑھے چھ ہزارارب روپے کی کرپشن کو نہیں چھپا سکتی،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
نیب میں موجود ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی کرپشن کے مقدمات پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے جس کی نگرانی سپریم کورٹ کرے ،سربراہ ایم کیوایم (پاکستان)ڈاکٹرفاروق ستار
سپریم کورٹ نے پامانہ کیس پرجے آئی ٹی کا فیصلہ دیاہے تونیب میں موجود باقی ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی کرپشن کے تمام مقدمات پر بھی جے آئی ٹی بنا دے
کرپشن کا خاتمہ اسی وقت ہوگا جب ملک میں موثر نیب کا قانون اور نظام ہوگا ،کنوینرایم کیوایم پاکستان ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
کنوینرایم کیوایم (پاکستان)ڈاکٹرمحمدفاروق ستارکی ایم کیوایم کے عارضی مرکز بہادرآبادمیں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل، رابطہ کمیٹی کے رکن خواجہ اظہار الحسن اور سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔۔ 20، اپریل 2017ء
پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے 7دن میں اپنی جے آئی ٹی قائم کرنے کی ہدایت اورساٹھ یوم میں جی آئی ٹی کی تفصیلی رپورٹ دینے کا پابند کیا ہے، یہ جے آئی ٹی براہِ رست سپریم کورٹ کے زیر نگرانی کام کرے گی، اس کیس سے لوگوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں، انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اگر دو ماہ کی انکوائری کی ضرورت ہے اور سپریم کورٹ نے اس کی ضرورت محسوس کی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ فریقین کواس فیصلے کو تسلیم کرکے جے آئی ٹی کو حتمی نتیجے تک پہنچنے کا موقع دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پریس کانفرنس میں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل، رابطہ کمیٹی کے رکن خواجہ اظہار الحسن اور سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پانامہ کیس سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے لہٰذا اب نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع شدہ ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کے179 میگا کرپشن کیسز کیلئے بھی جے آئی ٹیز قائم کی جائیں اور ان کیسز کا بھی جلد فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب اور انصاف کی فراہمی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، ابھی ایک مرحلہ مکمل ہوا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ بھی آئین و قانون کے مطابق مکمل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مدعی کی جانب سے وزیراعظم پر الزامات لگائے گئے جبکہ وزیراعظم نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا لیکن اب سپریم کورٹ نے ان الزامات کو سچ مانتے ہوئے ان کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اس بات کا تعین کیا ہے کہ احتساب اور انصاف کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، ایم کیو ایم روز اول سے کہہ رہی ہے کہ پاکستان سے فرسودہ گلا سڑا سیاسی نظام ختم ہونا چاہئے، ہم کرپشن کے خلاف اور اس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی کے قیام اور وزیراعظم پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات جے آئی ٹی سے کرانے سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ نیب کا ادارہ انتہائی ناقص اور نااہل ہے، ناصرف نیب بلکہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر اداروں نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی نااہلی کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ نے حکومت پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے خود اپنی نگرانی میں تحقیقات آگے بڑھانے اور منطقی انجام تک پہنچانے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) پاناما لیکس کے انکشاف سے کہہ رہی ہے کہ اگر اس موقع کو جانے دیا اور سینیٹ و پارلیمان نے ملک میں احتساب کا مؤثر اور مضبوط و شفاف نظام اور آزاد و خودمختارتحقیقاتی ادارہ قائم نہیں کیا تو سانپ نکل جائے گا اور ہم صرف لکیر پیٹتے رہیں گے۔ انہوں کہاکہ جو جماعتیں آج اس فیصلے پر اپنی آراء کے ذریعے سیاسی مطالبات کررہی ہیں تو ایم کیوایم آج انہیں پھر یاد دلاتی ہے کہ اگر جے آئی ٹی دو ماہ میں اپنا کام کرے گی تو تمام پارلیمانی جماعتیں طے کریں کہ ہم پاکستان سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں ۔ ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے مزیدکہاکہ انصاف اور احتساب عام آدمی کیلئے ہوتا ہے تو اعلیٰ عہدے پر فائز فرد پر بھی الزام کی تحقیقات ہونی چاہئے ، سپریم کورٹ نے ایک معاملے کی تحقیقات کیلئے کہا ہے تو نیب میں موجود ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی کرپشن کے مقدمات کیلئے کونسی جے آئی ٹی بنے گی اور کون بنائے گا؟ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کیو چاہیے کہ ایک آزاد و خودمختار ادارے کے قیام کے لیے کام کریں جو کسی کے اثر یا رعب میں نہ ہو تاکہ ہمیں ہر انکشاف کے بعد سپریم کورٹ نہ جانا پڑے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے خلاف بھی کرپشن کے کثیر الزامات ہیں جن میں نامزد بیشتر ملزمان ملک سے فرار جبکہ کچھ ملک میں موجود ہیں ، یہ الزامات بھی ہیں کہ ملک میں اربوں کھربوں روپے کے قرضے لیکر انہیں ہڑپ کیا گیا ، ایم کیوایم 90ء کی دہائی سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ آرٹیکل 63ون این جس کے تحت قرضے لینا لیکر ہڑپ کر جانااور معاف کروا دینا ہے تو معاف کرنے والی حکومتیں بھی اس آرٹیکل کے تحت نااہل ہیں اور قرضے لینے اور دینے والے بھی نااہل ہیں ان کے خلاف بھی تحقیقات اور فیصلے ہونے چاہئیں اوربلا تفریق انصاف ہوکیونکہ اگر ایک معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے تو نیب میں موجود ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی بدعنوانی اور کرپشن کے باقی مقدمات کی بھی تحقیقات ہوں بصورت دیگر سپریم کورٹ ، حکومت یاپارلیمان میں سے کسی نہ کسی کو اس کا جواب دینا ہوگا ۔انہوں نے بتایاکہ انھوں نے وزیراعظم کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ الزام سچا ہویا جھوٹا یہ انصاف اور قانون کی روشنی میں ثابت ہوگا تاہم وزیراعظم اس الزام کو کسی بھی طور پر ہلکا نہ لیں ۔صحافیوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ سپریم کورٹ ایک انتہائی ذمہ دار آئینی ادارہ ہے ، اگر سپریم کورٹ نے حوالہ دیے بغیر آرٹیکل 190کے تحت ایک انتظامی کام ، تحقیقات کا کام کسی کے سپرد کیا ہے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری لی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں عدالت اعظمی پر ااعتماد اور سپریم کورٹ کی جو ذمہ دارانہ وآزادانہ حیثیت پر سوال اٹھانایااس پر شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یوسف رضا گیلانی اورراجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی فیصلہ آیاتاہم میرے خیال میں پیپلز پارٹی سندھ کارڈ استعمال کرکے ساڑھے چھ ہزارارب روپے کی کرپشن کو نہیں چھپا سکتی ان پر بھی جے آئی ٹی بننی چاہئے اور تحقیقات ہونی چاہئے ، ایم کیوایم پاکستان کے خلاف الزام ہے تو اس پر بھی جے آئی ٹی بننا چاہئے ، کرپشن کے مقدمات پر بھی جے آئی ٹی بننا چاہئے اور اس کی نگرانی بھی سپریم کورٹ کرے ۔انہوں نے کہاکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کوئی ریفرنڈم نہیں ہے جہاں ہاں یا نہ میں پولنگ کرائی جائے ، ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن اصل بات وہی ہے کہ نیب بے اثر ، تابع اور ماتحت ، مرعوب اور خوفزہ ہے جبکہ کرپشن کا خاتمہ اسی وقت ہوگا جب ملک میں موثر نیب کا قانون اور نظام ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ پانامہ کے فیصلے کے لیے دوماہ ہیں لیکن اگر بات بڑھی ہے تو ہر کسی پر جے آئی ٹی بننا چاہئے ، اگر ایک سال میں ایک الزام پر جے آئی ٹی کا فیصلہ ہوا ہے تو باقی ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی کرپشن کے مقدمات پر بھی سپریم کورٹ جے آئی ٹی بنا دے تو یہ قوم کیلئے بہترین تحفہ ہوگا پھر نہ پیپلزپارٹی اور نہ پی ٹی آئی بلکہ عوام مٹھائی بانٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے آج کے فیصلے کو امید کے طو رپر لیا ہے اور ہم نے کہا ہے کہ ساڑھے چھ ہزار ارب روپے کی کرپشن پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے جس کی نگرانی سپریم کورٹ کرے ۔ رائے اور فیصلہ میں فرق ہے ، رائے ایک چیز ہوتی ہے ، فیصلہ ایک علیحدہ چیز ہوتی ، ہم فیصلہ پر بات کررہے ہیں ، کسی بھی قانونی ماہرین سے پوچھ لیں کہ فیصلہ اور رائے کیا ہوتی ہے ، رائے منفقسم ہوسکتی ہے ،جبکہ فیصلہ فیصلہ ہوتا ہے ۔

Tags: ,

More Stories From Feature News