Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

ایم کیوایم (پاکستان) نے پیپلز پارٹی کی نسل پرست، تعصب پسند اور کرپٹ ترین سندھ حکومت کے خلاف 23 اپریل کو لیاقت آباد سے مزار قائد تک عظیم الشان ریلی نکالنے کا اعلان کردیا


ایم کیوایم (پاکستان) نے پیپلز پارٹی کی نسل پرست، تعصب پسند اور کرپٹ ترین سندھ حکومت کے خلاف 23 اپریل کو لیاقت آباد سے مزار قائد تک عظیم الشان ریلی نکالنے کا اعلان کردیا
اب سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ زیادتیوں، ناانصافیوں اور تعصب کے خلاف قانونی، آئینی اور سیاسی جدوجہد کا آغاز کررہے ہیں، ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیوایم نے سندھ میں بھائی چارے کے قیام اور غلط فہمی دور کرنے اور استحکام کیلئے اپنی ساکھ کو بھی داؤپر لگایا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
بھٹو صاحب اگر قومی لیڈر تھے تو انہیں کوٹا سسٹم سندھ سمیت تمام صوبوں میں لگانا چاہئے تھا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اگر ہمارے حصہ کا کچھ لیکر دیہی سندھ کے غریب ہاری، کسانوں کی اولادوں کو پڑھنے کا موقع مل جاتا تو شاہد ہمارے دل کو اطمینان ہوتا لیکن اس کوٹا سسٹم نے سندھ کے وڈیروں کو نوازا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ہم مسائل کے حل کیلئے ایوانوں سے لیکرسڑکوں پر موجود رہے اور جب کورٹ فیصلہ نہیں کرتا تو روڈ کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول
خیرات کی طرح رینجرز کو اختیارات دینا قومی اداروں کی توہین ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
23؍اپریل کی احتجاجی ریلی حکومتی کرپشن کے ساتھ ساتھ شہر میں پانی کی عدم فراہمی اور کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی کے خلاف سنگ میل ثابت ہوگا، امین الحق
بہادر آباد میں ایم کیوایم (پاکستان) کے نئے عارضی مرکزی دفتر میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔18، اپریل 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پیپلزپارٹی کی نسل پرست ، تعصب پسند اور کرپٹ ترین سندھ حکومت کے خلاف 23، اپریل کو لیاقت آباد 10نمبر سے مزار قائد تک عظیم الشان ریلی نکالنے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب ہم چالیس سال سے جاری سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ زیادتیوں ، ناانصافیوں اور تعصب کے خلاف قانونی ، آئینی اور سیاسی جدوجہد کا آغاز کررہے ہیں لیکن بات یاد رکھی جائے کہ گزشتہ آٹھ نو برس میں ایم کیوایم نے سندھ میں بھائی چارے ، ہم آہنگی اور غلط فہمی کو دور کرنے اور سندھ میں استحکام کیلئے اپنی ساکھ کو بھی داؤ لگایا ہے اور اب ہماری جدوجہد فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوچکی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز ایم کیوایم (پاکستان ) کے نئے عارضی مرکز واقع بہادرآباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی (پاکستان ) کے ارکان سید امین الحق ، عبد القادر خانزادہ ، شبیر قائم خانی اور شکیل احمدکے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ گزشتہ آٹھ نو سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ جس طرح کا متعصبانہ سلوک کیا گیا یہ کہانی چالیس سال سے بھی پرانی ہے ۔ گزشتہ چالیس سال پہلے لگنے والے کوٹا سسٹم کے ذریعے سندھ دیہی اور شہری کے درمیان پیپلزپارٹی کی نسل پرست اور متعصب حکومت نے ایک لکیر کھنچی لیکن پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے جس طرح اس خلیج پر اونچی دیوار قائم کی ہے اس کے بعد شہری علاقوں کے نمائندوں ، سول سوسائٹی کے پاس صرف دو ہی راستے رہ گئے ہیں یا تو نفرت اور تعصب کی بنیاد پر تعمیر کی گئی دیوار کو گرا دیا جائے یا پھر اس کو مستقل شکل دیدی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کی جانب سے ایم کیوایم پاکستان کو مستقل مینڈیٹ دیاجاتا رہا ہے اور اعتماد کا اظہار کیاجاتا رہا ہے ۔، اسی سلسلے میں ہم نے اتمام حجت کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے خلاف ایک وائٹ پیپر شائع کیا تھا گو کہ وہ پیپلزپارٹی کی سیاہ تاریخ سے مبین ہے ، یہ مرحلہ پورا ہوا ہے ہم اپنی بات عام پاکستانیوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں، عوام اس مقدمے کو لیکر آگے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب کو پتا ہے پیپلزپارٹی کی پچھلی متعصب حکومت نے یہ کہ کر سندھ کے اندر دیہی اور شہری کی بنیاد پر کوٹا سسٹم لگایا تھا کہ دیہی علاقوں کو وہ مواقع نہیں ملتے جو شہری علاقوں کے عوام کو ملتے ہیں ، بھٹو صاحب اگرقومی لیڈر تھے تو انہیں یہ کوٹا سسٹم تمام صوبوں میں لگانا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ ، طالب علم یہ دیکھیں کہ اگر ہمارے حصہ کا کچھ لیکر دیہی سندھ کے غریب ہاری ، کسانوں کی اولادوں کو پڑھنے کا موقع مل جاتا تو شاہد ہمارے دل کو اطمینان ہوتا لیکن اس کوٹا سسٹم نے سندھ کے وڈیروں کو نوازا ہے اور انہیں مضبوط کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور دوسری حکومتوں کو یہ موقع ملتا رہا ہے کہ قومی سطح پر سندھ سے نااہل حکمراں آئے اور سندھ آہستہ آہستہ پیچھے ہوتا رہے اور اب کرپشن میں سب سے آگے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کو ختم کرنے کیلئے 23اپریل کو لیاقت آباد سے لیکر مزار قائد تک ریلی نکالیں گے اور بابائے قوم کے پاس اپنی فریاد لیکر جائیں گے ، اس کے بعد اگلا مرحلہ انصاف کی عدالتیں ہیں جہاں بحرحال ہمیں پہنچنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وائٹ پیپر کا جواب دیتے ہوئے سندھ کے مقامی رہنما نے کہاکہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوکوٹا سسٹم کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان کیلئے چالیس فیصد کے امکانات موجود ہیں ، وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہ اپنی پاکستان پیپلزپارٹی کو اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ حقوق کس طرح غضب کرتی ہے یا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سندھ کے شہری علاقوں کے نوجوان ایک فیصد بھی تعلیم کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہاکہ الحمد اللہ متحدہ قومی موومنٹ کو یہ اعزاز رہا ہے کہ اس کا ووٹر پاکستان کا سب سے پڑھا لکھا ووٹر ہے ، پاکستان سے محبت ہمارے ووٹروں میں خون بن کر دوڑتی رہی ہے اس لئے ہم نے بہت ساری چیزوں کو روک دیا ، انتظار کیا کہ شایدارباب اختیار صورتحال کو محسوس کرسکیں ۔ ہم مسائل کے حل کیلئے ایوانوں سے لیکرسڑکوں پر موجود رہے اور جب کورٹ فیصلہ نہیں کرتا تو روڈ کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور 23اپریل کو ریلی کے بعد اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر کھڑا ہوا پولیس افسر یا چپراسی ہو ان جگہوں پر سندھ کے شہری علاقوں کا کوئی نظر نہیں آتا ، یہاں بھی تعصب کی لکیر کھنچی جارہی ہے ، 18ویں ترمیم سے بڑی امیدیں تھی اسے پاس کروانے میں بڑا کردار ادا کیا ،نیشنل فنانس کمیشن اور 18ترمیم کے بعد جس طرح وسائل صوبو ں کی جانب آئے ہیں ، جس طرح صوبے اس مستفید ہوئے لیکن سندھ کی نسل پرست اور مصنوعی اکثریت رکھنے والی حکومت نے وفاق سے صوبوں کی جانب اختیارات منتقل کئے مگر سندھ حکومت نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے پاس رکھ لئے ، اس تمام صورتحال کو اب تبدیل ہوجانا چاہئے ورنہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام اپنا فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اب سندھ حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آئین و قانون کے تحت رینجرز کو اختیارات دینے ہیں یا نہیں دینے ہیں ، خیرات کی طرح اختیارات کو دینا قومی اداروں کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز کی جانب سے ااقدامات پر ہمارے بھی تحفظات ہیں اس کے باوجود کبھی بھی ہم نے آپریشن کو ختم کرنے کی بات نہیں کی ، اگر رینجرز نے واقعی ہی سندھ اور کراچی میں من قائم کیا تھا تو رینجرز کو اختیارات پورے سندھ اور ملک بھر میں دیئے جائیں ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریلی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں ،23اپریل کی ریلی ماضی کی طرح تاریخی ریلی ہوگی، یہ ریلی پیپلزپارٹی کی نااہل کرپٹ حکومت کے خلاف ہے ۔ ریلی ثابت کرے گی کہ تین دہائیوں سے شہری علاقے ایم کیوایم کے پاس ہیں ، کراچی ، حیدرآباد ، نوابشاہ ،میر پور خاص ، یا سکھر شہر کے عوام نے ایم کیوایم پر بھر پور اعتماد کااظہار کیا ہے ، یہ ریلی ثابت کرے گی کہ کراچی کل بھی ایم کیوایم تھا اور آائندہ بھی رہے گا ۔رکن رابطہ کمیٹی وایم کیوایم شعبہ اطلاعات کے انچارج سیدامین الحق نے پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہاکہ ایم کیوایم کا23،اپریل کی احتجاجی ریلی حکومتی کرپشن کے ساتھ ساتھ شہرمیں پانی کی عدم فراہمی اور کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی لوڈشیڈنگ کے خلاف اہم سنگ میل ثابت ہوگا،اس روزعوام خصوصاًبزرگ،نوجوان،خواتین بچے اوربچیاں گھروں سے نکل کرایم کیوایم کابھرپورساتھ دینگے اورکراچی اوراس کے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اپناپرامن احتجاج ریکارڈکرائیں گے۔

More Stories From 23 April Rally