Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

خالی ہونے والی بلدیاتی 6 نشستوں پرضمنی انتخابات ہوئے اورایم کیوایم نے تمام 6 کی 6 نشستوں پربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، رکن ابطہ کمیٹی وحق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری


خالی ہونے والی بلدیاتی 6 نشستوں پرضمنی انتخابات ہوئے اورایم کیوایم نے تمام 6 کی 6 نشستوں پربھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، رکن ابطہ کمیٹی وحق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
ایم کیوایم(پاکستان) 2018 کے عام انتخابات میں بھی واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
جس امیدوار کا نشان پتنگ ہوگا عوام اسی پر اپنے اعتماد کی مہر ثبت کرے گی، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کا ووٹ بینک ختم ہوگیا ہے،ضمنی انتخابات میں ایم کیوایم پر عوامی اعتماد انکے منہ پر طمانچہ ہے، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
ایم کیو ایم (پاکستان) شاہ فیصل کالونی کے کارکن شارق کمال کو فی الفور بازیاب کرایا جائے، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
ہم لامحدود جذنے کے ساتھ شہری سندھ کے عوام کو انکا حق دلائیں گے ، ہم جلد رابطہ مہم کا آغاز کریں گے، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری
پاکستان کے تمام شہریوں کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کیلئے بھی آواز بلند کریں، رکن ابطہ کمیٹی و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری کا انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست
لاپتہ کارکنان کا کیس پانامہ کیس سے زیادہ اہم اور ضروری ہے، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن
جماعت اسلامی کو 3 سال بعد بجلی و پانی کا مسئلہ یاد آیا، ہم عومی مسائل حل کریں گے ان پر سیاست نہیں کریں گے، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن
اگر سکھر میں نتائج تبدیل کئے گئے تو ہم سکھر جاکر دھرنہ دیں گے، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن
ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد پر فیصل سبزاواری اور خواجہ اظہار کی رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔ 15، اپریل 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی کرابطہ کمیٹی کے رکن و حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز واقع بہادرآباد میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) نے آج بہادرآباد میں واقع اپنے نئے عارضی مرکز میں پہلی کانفرنس کے ذریعے اپنی باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور یہاں پبلک سیکریٹریٹ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں خالی ہونے والی بلدیاتی 6 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے اور باوجود اس کے کہ ہمارے کارکنان آج بھی لاپتہ اور گرفتار ہورہے ہیں ہم سب کے باوجو انتخابات میں گئے اور 6 یونین کونسلوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے اور الحمداللہ ایم کیو ایم کے نامزد امیدواران نے تمام 6 کی 6 یوسیز میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کیں اور کئی مخالفین کی ضمانتیں تک ضبط کرادیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کا ووٹ بینک ختم ہوگیا ہے لیکن عوام نے ایم کیوا یم (پاکستان) پر اپنا بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے امیدواران کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔ میرپور خاص میں وار ڈ 10 میں حکمراں جماعت کو بدترین شکست ہوئی اور سکھر شہر میں جو نشست ہم 2015 میں ہم 35 ووٹ سے ہارے تھے اسے وہاں سے ہم نے 300 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ہمیں بڑی تعداد میں ووٹ ملے گوکہ ہم کامیاب نہیں ہوئے۔ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نے عدم تشدد کے پیروکار بن کر 41 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں ایم کیو ایم (پاکستان) کو کامیاب کرایا اور انشاء اللہ 2018ء کے انتخابات میں بھی پتنگ کا نشان ہی جیتے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام و کارکنان کے شکرگزار ہیں کہ جس طرح انہوں نے میئر کراچی وسیم اختر کا ساتھ دیتے ہوئے 100 روزہ صفائی مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ہم لامحدود جذنے کے ساتھ شہری سندھ کے عوام کو انکا حق دلائیں گے ، ہم جلد رابطہ مہم کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وائٹ پیپر سے عوام کو پیپلز پارٹی کی اجارہ داری سے آگاہ کریں گے۔ ہمارے ساتھیوں کو محبت اورامن کے باوجود بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا ہے ہمارے 3 ٹاؤن آرگنائزرز پی آئی بی، گلشن اور لانڈھی کے انچارجز اب تک گرفتار ہیں اور انکی اب تک کوئی خبر نہیں۔ ہم پرامن اور عدم تشدد پر مشتمل سیاست کریں گے، ایم کیو ایم (پاکستان) کا کارکن ہونا جرم بنادیا گیا ہے۔ عصبیت کا طوق اتارا جائے، ہم محب وطن، پرامن پاکستانی ہیں اور ہم عوام کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم عوامی مسائل کے حل کیلئے پرمان مظاہرے کریں تو دشت گردی اور دوسرے باقاعدہ دہشت گردی کریں تو انہیں پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے لاپتہ کارکنان کو گمنام طریقے سے دفنا دیا جاتا ہے، یہ سب آخر کیا ہے؟ کیا مثبت سیاسست اور امن کو فروغ کوئی جرم ہے؟ ہم کراچی میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں۔ شاہ فیصل کالونی کے ہمارے کارکن شارق کمال کافی عرصے سے لاپتہ تھے اور ان کی باحفاظت بازیابی کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی اور پٹیشن بھی جمع کرائی۔ چند روز قبل ان کے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کو دوران تحویل ذیابطیس ہوگئی تھی اور انکا انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور ہمارے منتخب اراکین نے کراچی کے تمام سردخانوں اور اسپتالوں سمیت تمام فلاحی اداروں سے معلومات اکھٹی کی لیکن کوئی شناخت نہیں ملی جس کے بعد قوی امکان ہے کہ وہ تاحال زندہ ہیں اور تحویل میں ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ شاہ فیصل کالونی کے کارکن شارق کمال کو فی الفور بازیاب کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے جرم کیا تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ ہم جرائم پیشہ افرادکی حمایت نہیں کرتے لیکن ایم کیو ایم (پاکستان) کے کارکنان کو بھی اچھی نگاہ سے دیکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی حکمراں جماعت زرداری صاحب کے تین ساتھیوں کے لاپتہ ہونے پر احتجاج کررہی ہے لیکن ایم کیو ایم (پاکستان) کے لاپتہ کارکنان کے لئے پالیسی دوسری ہے، یہ انسانیت سوزعمل ہے۔ ایم کیو ایم کے تمام لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایا جائے ، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے لیکن انہیں انسانیت سوز مظالم سے نہ گزارا جائے، ہم اپنا مقدمہ کہاں لے کر جائے؟۔ انہوں نے کہا کہ ریاست احساس محرومی کا خاتمہ کریں۔ ہمارے لاپتہ کارکنان کے حوالے سے عدالت میں ایک پولیس آفیسر نے کہا کہ یہ لوگ بھارت چلے گئے ہیں تو بھائی میری درخواست ہے کہ زرداری صاحب کے لاپتہ ساتھیوں کا کیس بھی ان کے حوالے کردیا جائے یہ بتا دیں گے کہ وہاں کہاں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کراکے انہیں سامنے لایا جائے نہ کہ جھوٹے الزامات لگائے جائے۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ پاکستان کے باشندوں کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کیلئے بھی آواز بلند کریں۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ لاپتہ کارکنان کا کیس پانامہ کیس سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمارا نام لیا ہے اور ہم الزان تراشی نہیں چاہتے۔ جماعت اسلامی اپنے تھنڈراسکوارڈ کے ذریعے بدمعاشی بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو 3 سال بعد بجلی و پانی کا مسئلہ یاد آیا۔ ہم اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے مسائل حل کریں گے، مسائل پر سیاست نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر میں ایم کیو ایم (پاکستان) کی جیت تسلیم کرنے کے بجائے ڈی آر او پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ، سکھر میں ہیڈ ماسٹر کو اغوا کرکے نتائج بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سکھر میں ہیڈ ماسٹر اور دیگر افسران کی جانوں کو خطرہ ہے، سندھ حکومت ان پر نتائج ڈالنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اگر سکھر میں نتائج تبدیل کئے گئے تو ہم سکھر جاکر دھرنہ دیں گے۔

Tags: ,

More Stories From Feature News