Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

ہم ملک وصوبے کی ترقی کیلئے سیاسی آزادی چاہتے ہیں،سینئرڈپٹی کنوینرایم کیوایم(پاکستان)عامرخان


ہم ملک وصوبے کی ترقی کیلئے سیاسی آزادی چاہتے ہیں،سینئرڈپٹی کنوینرایم کیوایم(پاکستان)عامرخان
کارکنان وذمہ داران کی بلاجوازگرفتاریوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس سے عوام میں احساس محرومی پھیل رہی ہے،عامرخان
کارکنان پرجھوٹے مقدمات بناکران کی بلاجوازگرفتاریوں کا سلسلہ ایک بارپھرشروع ہوگیا ہے جوکہ انتہائی تشویشناک ہے،عامرخان
ایم کیو ایم (پاکستان) میں جرائم و تشدد کی زیرو ٹولرینس کی پالیسی اور کسی بھی جرائم پیشہ شخص کی کوئی جگہ نہیں ، عامرخان
ایم کیو ایم (پاکستان) ایک پرامن سیاسی جماعت ہے اور پاکستان کی ترقی و استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتی ہے ، عامرخان
سیاسی وفاداریاں بدلنے کا مکروہ عمل بند ہونا چاہئے، اس سے احساس بیگانگی بڑھ رہی ہے، عامرخان
ایم کیو ایم (پاکستان) مضبوط و مستحکم ہے اور کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، عامرخان
ہم سیاسی ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی تقاریر و بیانات میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں ،عامرخان
لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں تو مجرم اور انکے ساتھ کھڑے ہوں تو مسکین، یہ کیا سلسلہ ہے؟، عامرخان
جو اراکین اسمبلی پی ایس پی میں گئے ہیں ان سے معلوم کرلیا جائے کیا ڈاکٹر فاروق ستار نے ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ڈالا تھا؟، عامر خان
2018ء کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم (پاکستان) پہلے سے زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی، عامر خان
ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز پر سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کا اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی ۔۔۔ 08، اپریل 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے پی آئی بی کالونی میں واقع عارضی مرکز پر اراکین رابطہ کمیٹی زاہد منصوری، شبیر قائم خانی، ہیرسوہو، محمد حسین اور سید امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج کی پریس کانفرنس کے ذریعے پورے پاکستان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے کارکنان و ذمہ داران کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ 22 اگست کے بعد ہم نے 23 اگست جو لاتعلقی کا اعلان کیا اور انکے ہر عمل سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیااور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جاتا اور ایم کیو ایم (پاکستان) کو سیاسی آزادی دی جاتی لیکن اس کے برعکس ہمارے کارکنان پر جھوٹے مقدمات بناکر ان کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے جوکہ انتہائی تشویشناک ہے۔ عامر خان نے کہا کہ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا سلسلہ رکنا چاہئے اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہئے۔ اگر ایم کیو ایم (پاکستان) کو سیاسی آزادی نہ دی گئی تو عوام میں احساس محرومی بڑھے گی۔ ایم کیو ایم (پاکستان) سیاست کو خدمت کے تحت لیکر چل رہی ہے اور ایم کیو ایم (پاکستان) میں جرائم و تشدد کی زیرو ٹولرینس کی پالیسی اور کسی بھی جرائم پیشہ شخص کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے جن علاقائی ذمہ داران و کارکنان کو گزشتہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے بلاجواز گرفتار کیا ہے
ان میں اسداقبال، محفوظ علی، ایوب شان، محمدرؤف، گلش اقبال، الیاس حسین، دانش قریشی، محمدنعمان، محمدزبیر، شہاب الدین، محمد سہیل غوری، محمد راشد، ارشد، محمد فرخ، صدیق فرحان اور زاہد شامل ہیں جنہیں گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تاحال انکی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سے 25 روز گزرجانے کے باوجود کارکنان کی گرفتاری کے حوالے سے ہمیں اور انکے اہل خانہ کوئی تفصیلات نہیں بتائی جارہی۔ اگر کسی کارکن کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں وکیل کرنے کا موقع دیا جائے۔ گرفتار شدگان پڑھے لکھے اور باکردار ہے اور یہ لوگ اپنے گھروں میں رہ رہے تھے اور کسی مقدمے میں نامزد نہیں تھے لیکن راتوں رات انہیں مطلوب بنادیا گیا۔ عامر خان نے کہا کہ کارکنان کی بلاجواز گرفتاریاں سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر انہیں کیوں گرفتار کیا گیا۔ ایم کیو ایم (پاکستان) ایک پرامن سیاسی جماعت ہے اور پاکستان کی ترقی و استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتی ہے ، ہم ملک و صوبے کی ترقی چاہتے ہیں، ہم سیاسی آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کو مخصوص گروپ میں شمولیت کے دبا ؤ ڈالا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہمارے وہ اراکین اسمبلی جو ایک ایک دو دو سال سے ملک سے باہر تھے اور ان پر من گھڑت اور جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے تھے اور انہیں ڈر تھا کہ پاکستان آنے پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ وہ ہم سے رابطہ میں تھے لیکن جوں ہی وہ مخصوص گروپ میں گئے ان کے مقدمات ڈرائی کلین ہوگئے۔ اگر یہ لوگ دل سے اور اپنی خواہش سے جارہے ہیں تو یہ لوگ ایک سال قبل جاچکے ہوتے، ارتضیٰ فاروقی بھی ہم سے ایک ہفتے قبل تک مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاداریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے باعث عوام میں شدید بے چینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی وفاداریاں بدلنے کا مکروہ عمل بند ہونا چاہئے، اس سے احساس بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں تو مجرم اور انکے ساتھ کھڑے ہوں تو مسکین، یہ کیا سلسلہ ہے؟۔ انہوں نے کہ ہم سیاسی ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی تقاریر و بیانات میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ہم پر مسلسل کیچڑ اچھالتا رہے تو ہم خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے۔ عامر خان نے کہا کہ پی ایس پی اگر میئر کراچی کو متنازعہ بنائے گی تو پھر ہم بھی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کو بے نقاب کریں گے۔ سوالات کے جواب دیتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ جو اراکین اسمبلی پی ایس پی میں گئے ہیں ان سے معلوم کرلیا جائے کیا ڈاکٹر فاروق ستار نے ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ڈالا تھا؟، ایم کیو ایم (پاکستان) مضبوط و مستحکم ہے اور کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، 2018ء کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم (پاکستان) پہلے سے زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔
*****

Tags: ,

More Stories From Feature News