Go to ...
Muttahida Quami Movement on YouTubeRSS Feed

قرطاس ابیض


انصاف کی تلاش
شہری سندھ کا مقدمہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبہ سندھ میں حکومت کا پچھلا 9 سالہ دوربد ترین بد انتظامی، بدنظمی، اوربد عنوانی سے عبارت ہے۔جس کی پاکستان میں بھی مثال ملنی مشکل ہے۔
کرپشن ، بدعنوانی، بے ایمانی، اقربا ء پروری اورتعصب کے ذریعے ٹھیکوں اورمعاہدوں میں مکمل غیرشفافیت رہی ، عوامی وسائل کے ذریعے سندھ کے شہری عوام کے حق پرجس طرح بے قابوڈاکہ زنی کی گئی اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔سندھ اسمبلی میں عددّی اکثریت کی بنیاد پر متعصبانہ قانونی سازی کے ذریعہ شہری علاقوں کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ گوکہ کرپشن پیپلز پارٹی کی پہچان اور سیاسی نشان بن چکا ہے لیکن گزشتہ 9 برسوں میں یہ اس طرح نقطہ کمال کوپہنچ گیا کہ ” قابلِ مذمت” اور ” افسوس” جیسے الفاظ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔شہری سندھ کے ساتھ ہونے والیِ اس قابلِ یقین زیادتی ، نا انصافی اورمتعصبانہ سلوک اور اس کے نتیجے میں یہاں کے عوام کو ملنے والی اذیت اور آزمائش اور پریشانی کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن شہری سندھ بالخصوص مہاجروں کے ساتھ اس متعصبانہ سلوک کی روایت ستر (70 )کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور سے ہی شروع ہو گئی تھی ۔
پورے پاکستان میں صرف اور صرف سندھ وہ بد نصیب صوبہ ہے جہاں قابلیت اور میرٹ پر شب خون مار کر ملازمتوں حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں بھی دیہی اور شہری کی بنیاد پر ایک غیراخلاقی اور نا انصافی پر مبنی کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔نا انصافی پر مبنی اس کوٹہ سسٹم کے نفاذ اور تعصب پر مبنی لسانی بل پیش کرنے کے بعد خود پیپلز پارٹی کی نسل پرست حکومت نے دیہی اور شہری سندھ کے درمیان تقسیم اور تفریق کی ایک مستقل خلیج کی بنیاد رکھ دی۔
گو کہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام قیام پاکستان کے بعد سے ہی مختلف ادوار میں حکومتوں اور آمروں کے متعصبانہ اور امتیازی سلوک کا شکار ہے جس کی تفصیل کسی اور موقع پر ایک اور قرطاس ابیض کے ذریعے دنیا کے سامنے لائی جائے گی۔
متحدہ قومی موومنٹ نہ صرف مہاجروں بلکہ سندھ کے شہری علاقوں میں مستقل سکونت پذیر تمام ذیلی قومیتوں ، برادریوں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کا منصفانہ حل اور انکے حقوق اور مفادات کا مستقل بنیادوں پر تحفظ چاہتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم کسی خیالی دنیا میں نہیں رہ رہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ ہر طرح کے افراد اور مختلف خیالات کا مجموعہ ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ برداشت ، تحمل ، رواداری اور اخلاقی روایات کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن اس صورتحال کو اپنا مقدر تو نہیں بنایا جا سکتا اس کے لئے جاری انصافیوں ، بد عنوانیوں اور تعصب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا لازمی ہے جس کے بعد ہی اس طرح کے مسائل کا حل ڈھونڈنا ممکن ہو سکے گا۔
یہ حقیقت اب پوری طرح آشکار ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک لسانی اور متعصب سیاسی جماعت ہے جو اپنی مختلف حکومتوں خاص طور پر سندھ کی موجودہ صوبائی حکومت کے ذریعے دانستہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان غلط فہمیوں اور نفرت کی آگ لگا کر ہم آہنگی کی فضاء کو مکمل طورپر آلودہ کرچکی ہے اس نے سندھ میں مستقل رہائش پذیر قوموں کے درمیان غلط فہمیوں کو ایک منصوبے کی تحت پروان چڑھایا ہے ۔
سندھ کے شہری علاقوں کی عوام کی سیاسی ، سماجی اور انتظامی ڈھانچوں میں نہ ہونے کے برابرنمائندگی نے یہاں کی عوام کو محرومی، تنہائی، بیگانگی اور عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کر دیا ہے اور اس طرح کا متعصبانہ رویہ اور انصافیوں کا عمل پچھلے آٹھ سال میں نقطہ عروج پرپہنچ چکا ہے ۔
اس پر کوئی د و رائے نہیں ہو سکتیں کہ جب نوجوانوں پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کر دئیے جائیں اور قابلیت اور محنت کے بجائے تعصب، لسانیت، اقربا پروری، رشوت، سفارش اور پرچی سسٹم کی اجاراداری ہوگی ، جب صلاحیت اور ٹیلنٹ کو اظہار کا موقع نہ ملے تو مایوسی اور غصہ کا پیدا ہونا فطری اور لازمی عمل ہے ۔گزشتہ کئی دہایوں سے ہونے والے نا انصافیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی نے سندھ کے شہری علاقوں کے نوجوانوں کی کئی نسلوں کو متاثر کیا اور انہیں نا امیدی اور غم و غصے کا شکار کیا ۔ اس طرح نا انصافیوں کا شکار اور اپنے مستقبل سے نا امید نو جوان جرائم ، نشے اور انتہا پسندی میں اپنے لئے پناہ ڈھونڈتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کو نکالنے کا راستہ اور ذریعہ تلاش کیا جا سکے ۔
پیپلز پارٹی ہمیشہ سے سندھ کے صرف دیہی علاقوں کی جماعت رہی ہے اور اس کی نمائندگی کی آڑمیں سندھ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے عام سندھی کو جوکہ سادہ لوح ،دوست مزاج، امن پسند اور محبت کرنے والا ہے اس کے کاندھے کو استعمال کرتی آئی ہے ۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیروں اور موروثی سیاست دانوں نے ان عام سندھیوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور یہی وڈیرے جاگیر دار سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی ، مالی اور خاندانی مفادات اور اجاراداری کو بچانے کے لئے دانستہ طور پر سندھ میں مستقل رہائش پذیر سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان تقسیم اورتعصب کی لکیر کھینچ رکھی ہے۔

۱۔ صوبوں ،ضلعی ، شہری اور لوکل حکومتوں کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ:

ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) نے کئی دہائیوں پر محیط طویل گفت شنید اور دلائل کی بحث کے بعد آخر کار صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی برابری کی بنیاد پر حصہ داری کے مسئلے کا حل تلاش کرلیا جبکہ Distribution of Revenue and grants in Aid Orderکا اعلان آئین کے آرٹیکل کی کلاز (4)اور160(7)کے مطابق 10مئی2010 ؁ء کو جاری کیا گیا اور اس کو یکم جولائی 2010 ؁ء سے قابل عمل ٹہرایا
(منسلکہ A)۔
اس بات کی توقع تھی کہ صوبہ سندھ بھی اس نوٹیفیکیشن کے مطابق منظور شدہ فارمولا پر ہو بہو عمل درامد کرے گا اور وسائل اور ذرائع کو مختص کرنے کے لئے تیسرے مرحلے کی حکومتوں(یعنی لوکل گورنمنٹ، میٹروپولیٹن اور ضلعی حکومتوں وغیرہ) کو NFCکے فارمولے کے مطابق حصہ فراہم ہوگا مگرایسا نہیں ہوا ۔ بلکہ یوں ہوا کہ تمام فنڈز روکے رکھے گئے اور غیر منصفانہ طریقوں پر پیپلز پارٹی کی قیادت میں قا ئم سندھ حکومت نے اس کو جاگیردار موروثی سیاستدانوں کو غیر قانونی طور پر مزید مالدار بنانے کے لئے استعمال کیا ۔ اس کا م کے پیچھے دو مقاصد کار فرما تھے ایک یہ کہ دیہی آبادی کو اپنے تابع فرماں اور زیر اثر رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ شہری آبادی خصوصاََ کراچی کے پانچوں اضلاع ، حیدر آباد، سکھر، میر پور خاص اور نواب شاہ کے شہریوں کو مایوس اور اپنا دست نگر رکھا جائے ، یہاں تک کہ روکے گئے فنڈز کو سندھ میں ترقیاتی منصوبوں اور عام شہریوں کی حالت میں بہتری تک کے لئے بھی استعمال نہیں کیا گیا جس سے عوام انتہائی ناراض رہے ہیں ۔
مندرجہ بالا صورتحال کی روشنی میں یہ تجویز حق بجانب ہے کہ ترقیاتی فنڈز خاص طور پر (Federal Allocation & Provisional own receipts)
Gross Revenue Receiptsبرابری کی بنیاد پر 42.5صوبہ57.5ضلعی /لوکل گورنمنٹ کے تناسب سے تقسیم کیا جائے ، اسی طریقہ پر 0.66%کٹوتی کے بعد آمدنی (جیسا کہNFCنے تجویزکیا ہے )کو شہروں کے لئے مختص کیا جائے یعنی محصول چونگی اور ضلعی ٹیکس جو کہ پہلے شہری حکومتیں جمع کرتی تھیں۔ اور یکم جولائی 1999 ؁ء سے اس پر پابندی لگ گئی اس تناسب سے فراہم کیا جائے (منسلکہ B) ۔

۲۔ مالی پابندیاں جس کا زیادہ شکار شہری علاقوں کے مکین ہوئے ہیں:۔

سن2002میں جب پاکستان مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی تھی تو وسائل کی کمیابی کے باوجود بجائے محصولات کی حد میں اضافہ کرنے یا نئے ٹیکس لگانے کے ، تمام پانچ سالوں کے بجٹ اضافی ٹیکسوں سے مبراء رکھے گئے اورغیر ترقیاتی اخراجات پر مکمل پابندی اور روک لگائے رکھی گئی ۔ بد قسمتی سے جب سے 2008میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت سازی ہوئی ہے باوجود اسکے کہ صوبوں کے حصے میں کافی اضافہ کردیا گیا ہے ٹیکسوں کے بوجھ میں نہ صرف بے انتہا اضافہ کیا گیا بلکہ نئے ٹیکس بھی نافذکر دئے گئے ہیں جس کا بوجھ صرف شہری علاقوں خصوصاََ کراچی، حیدر آباد اور سکھر کے عوام پر پڑا ہے۔ جس کا ثبوت سندھ حکومت کی 2008-09سے لیکر 2016-17کے درمیان حاصل کردہ مجموعیموجودہ آمدنی کی وصولیابی کی سطح2008-09میں207.836ارب سے بڑھ کر 2016-17میں727.132ارب روپے ہو گئی ہے، اس طرح سے اخراجات کی سطح اسی مطابقتی مدت میں180.9ارب روپے سے بڑھ کر 572.7ارب روپے تک پہنچادی گئی ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر محصولاتی، غیر محصولاتی اور متفرق فیس کی مد میں آمدنی شہری علاقوں خصوصاََ کراچی، حیدر آباد، میر پور خاص ، نواب شاہ اور سکھر سے جمع کی گئی ہے ۔ شہری علاقوں کے ٹیکس گزاروں سے وصولیابی کی تفصیلات اور اس سلسلے میں چیف منسٹر سندھ کو بجٹ سے پہلے لکھے گئے خط کی نقل منسلک ہے (منسلکہC)۔ اور تضاد دیکھئے کہ دیہی زراعتی سیکٹر زرعی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے جبکہ تمام قابل ٹیکس آمدنی پرٹیکس لاگو ہونا چاہیئے جیسا کہ شہری علاقوں کی آمدنی پر لگتا ہے ۔ آبیانہ اور مالیانہ جو کہ صدیوں سے بطور کرایہ ، حکومت کو بحیثیت مالک کے ادا کیا جایا کرتا تھا وہ ضیاء الحق کے دور میں حکومت نے ختم کرکے عشر کے نظام سے تبدیل کردیا گیا تھا لیکن ضیاء الحق کے جانے کے بعد عشر کا نظام بھی ختم کردیا گیا۔ ٹیکس نافذ کرنے کے نام پر ایک مقررہ زمینی ٹیکس جس کی مالیت 100روپے ،200روپے اور 500روپے فی آباد زرعی زمین رقبہ اور غیر آباد زرعی زمین پر لگایا جارہا ہے اور باغات پر اسی طریقے سے تقریباََ2000فی رقبہ وصول کیا جاتا ہے مزید براں یہ ٹیکس بھی پچھلے سترہ برسوں میں کبھی تبدیلی اور اضافہ کی زد میں نہیں آیا حالانکہ گندم ، کپاس، گنا اور چاول کی قیمتوں میں کئی گنابے پناہ اضافہ ہو چکا ہے ان کی تفصیلات پچھلے 9 سالہ ریکارڈ کے حوالے سے( منسلکہD ) جدول میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
اس طرح سے آبپاشی کی شرح نرخ میں بھی 1999 ؁ء سے لیکر کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آتا جبکہ گندم کی ترسیل اور دوسری تمام زرعی اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کی تفصیلات (منسلکہ E (جدول میں دی گئی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ دہی مکینوں اور کسانوں، ہاریوں کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن اس بات کی مکمل وکالت کرتی ہے کہ تمام بڑے زمینداروں کو زرعی آمدنی پر لاگو ٹیکس ادا کرنا چاہیئے ۔

۳۔ وفاق اور صوبائی وسائل میں شہری سندھ کے جائز حصہ دینے سے اِنکار:۔

کراچی جیسا شہر جو پورے ملک کے لئے تقریباََ68فیصد اور صوبہ سندھ کے لئے 88فیصد ریوینیو (آمدنی)مہیا کرتا ہے ۔ اس کو اپنے معاملات خود چلانے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ آج کی جمہوری دنیا میں شہری علاقوں کے لوگ محصولات تو ادا کر رہے ہیں مگر انکی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کراچی شہر مرکزسے بمشکل دو سے تین فیصد اور صوبے سے تقریباََسات سے آٹھ فیصد حصہ لے پاتا ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے فوائد اور اس سے ثمرات جو کہ این ایف سی ایوارڈ کے نتیجہ میں خدمات پر حاصل ہونے والے سیلز ٹیکس سے وصول ہوتے ہیں ان سے کراچی، حیدر آباد اور سکھر کو محروم رکھا جارہا ہے ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس ذریعہ سے حاصل شدہ آمدنی تقریباََ70ارب (بلین) ہے جس میں سے  65بلین صرف کراچی شہر پیدا کرتا ہے جبکہ کراچی کو اس میں سے ایک پائی بھی نہیں دی جاتی ہے ۔ہم یہاں یہ بات کہنے میں حق جانب ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور حکومت 2008-13میں700ارب روپوں کے ترقیاتی فنڈز کے حجم میں صرف 28ارب شہری سندھ کے لئے مختص کئے ۔ شہری علاقوں کے مکینوں کے ساتھ روا رکھنے والی زیادتیوں اور ترقیاتی سہولتوں کے منصوبوں کی فراہمی میں رکاوٹ کے بارے میں ایک جدول یہاں منسلک کیا گیا ہے (منسلکہ F) مزید براں پچھلے تین سالہ دور حکومت میں بعینہِ یہی رویہ اختیا رکیا گیا ہے ۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں اربوں روپے خرد برد کئے گئے ہیں۔ لاڑکانہ میں خردبرد کئے گئے پیسے اس کی واضح مثال ہیں اس ضمن میں ضمیمہ “F” اور “F-I” دیکھے جا سکتے ہیں۔

۴۔ شہری سندھ میں مڈل کلا س کے زیرِ اثر علاقوں سے وسائل کا دیہی علاقوں کے جاگیردار سیاسی وڈیروں کے اثر والے علاقوں میں  مبینہ تباد لہ”یعنی غریب کو لوٹنا امیر کو بھرنا”:۔

سال2007-08اور2016-17کے بجٹوں کا ایک سرسری جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ تقریباََ85 فیصد فنڈزجو وفاقی حکومت نے NFCایوارڈ کے تحت مختص کئے گئے اور88فیصد آمدنی ریوینیو ، جو کہ صوبائی حکومت نے جمع کیا وہ سکھر، حیدر آباد اور کراچی کے شہریوں کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکسوں پر مشتمل ہے نیچے دیئے گئے اعداد و شمار ہمارے اس دعوے کو ثابت کریں گے ۔
سال 2015-16کے دوران وفاق کی ترسیل مبلغ 494.3ارب روپے تھی جبکہ 133.6ارب روپے صوبائی محصولات سے صوبہ کے اندر جمع کئے گئے چناچہ مجموعی آمدنی یعنی627.9ارب روپے میں سے تقریباََ80فیصدشہری علاقوں کے مکینوں کی جانب سے کی گئی ادائیگیوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح سے OZTکا حصہ جو 9.8ارب روپے (جو کہ محصول چونگی کے1999میں ختم ہونے کے بدلے میں ) وفاقی حکومت سے وصول کیا گیا اس کا بمشکل 50فیصد05شہری علاقوں کو تقسیم کیا گیا ۔یعنی جمع کئے گئے جائیداد ٹیکس کا تقریباََ17فیصد حکومت نے بغیر کسی واضع جواز کے منہا کیا ہے ، حالانکہ صرف ایک فیصد بھی کلیکشن چارجز کی مد میں وضع کیا جاسکتا تھا ٹیکس جمع کرنے کا تمام اختیا ر صوبائی حکومت کے پاس ہونے کی وجہ سے اس کو یہ بالادستی حاصل ہے کہ وہ پراپرٹی ٹیکس میں کراچی کا جائز حصہ اپنی مرضی اورمنشاء کے مطابق ادا کرتی ہے جو کہ نہایت ظالمانہ امر ہے ۔
ریاستی تجارت کے معاملے میں مثلاََ گندم کی حصولیابی کے لئے سال2015-16میں48ارب روپے اس کی خرید پر صرف کئے گئے جبکہ اس کی واپسی میں صرف مبلغ42.8ارب روپے وصول پائے اور اس نقصان کی کوئی وضاحت نہ پیش کی گئی ہے تا ہم حکومت نے گندم کی خرید کے لئے حاصل کئے گئے قرض پر11فیصد سود کی ادائیگی کی ہے ۔ یہ فصل پیدا کرنے والوں کے لئے ایک سیدھی مدد ہے ۔ جس میں 85فیصد بڑے زمیندار اور وڈیرے شامل ہیں۔ لیکن آٹا استعمال کرنے والے ان صارفین کو اس کے تناسب سے کوئی حکومتی مدد فراہم نہیں کی گئی جن کا تعلق شہری علاقوں سے ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ شہری علاقوں کی کم آمدنی والی کالونیوں کے رہائشی مکینوں کے لئے امدادی نرخ پر آٹا کی راشن بندی کا طریقہ وضع کیا جائے۔
OZTجو کہ محصول چونگی اور ضلع ٹیکس کے بدلے میں ہے صرف اس میں کراچی شہری کے محصول چونگی کا حصہ89.1فیصد اور دیہی کراچی کا ضلع ٹیکس کا حصہ 10.9فیصد 1999کے اعداد و شمار کے مطابق بنتا ہے جبکہ اس کو وفاقی حکومت نے ختم کردیا تھا ۔ لیکن سن2008میں صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے کراچی اور دوسرے شہروں کا حصہ بہت زیادہ کم کردیا گیا۔

۵۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ضلعی ، لوکل گورنمنٹ اور میٹرو پولیٹن حکومتوں کے اختیارات کا غصب:۔

سال2009اور2016میں ایک بڑی بد قسمتی نے صوبہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ کو ایک کاری ضرب لگائی ، اگر چہ کہ وفاقی حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے طاقت، اختیار اور وسائل میں سے ایک بڑا حصہ وفاق سے صوبوں کو حکومتوں کو تضویض کیا لیکن سندھ کی صوبائی حکومت نے صوبائی اسمبلی کے ذریعے قانون پاس کر کے ایک متروک اور بدترین لوکل گورنمنٹ قانون رائج کردیا جس کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کے اختیارات کو رول بیک کر کے صوبائی حکومت کے اختیار میں ڈال دیا گیا اس طرح اختیارات اور وسائل پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-Aکی روح کے نہ صرف منافی بلکہ صریحاََ خلاف ورزی ہے۔
اختیارات اور وسائل کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی ، انتظامی اور مالی قوت و اختیار کی لوکل گورنمنٹ کی طاقت کی صوبے کو خصوصاََ صوبہ سندھ میں واپسی نے صوبوں کو ایک طرف بے قابو اور بد انتظام اور دوسری جانب لوکل حکومتوں کو مکمل بیکار اور بے اختیا کردیا ہے ۔ اس صورتحال میں 2015میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں قائم ہونے والا لوکل گورنمنٹ کا نظام محض ایک دکھاوا ثابت ہوا ہے اور اصل حاکمیت صوبائی حکومت کے پاس ہی ہے ۔ یہاں تک کہ یہ الیکشن بھی معزز عدالت عظمیٰ کے احکامات کے تحت ظہور پذیر ہوسکتے تھے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ، کراچی ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ، ماس ٹرانزٹ/ٹرانسپورٹ، میونسپل ٹیکسشیشن کا عائد کرنا، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، حیدر آباد اور سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی یہ تمام اختیارات اور امورِ حکومت جن کو کراچی میٹروپولیٹن اور دیگر ضلعی حکومتوں کا اٹوٹ حصہ ہونا چاہیئے ،اب صوبائی حکومت سندھ کے دائرہ کار و اختیار میں ہے ۔ (عوام مخالف اور سندھ شہری مخالف کاروائیاں تاریخ وار فہرست میں منسلکہ F میں ملاحظہ کیجیئے ۔
کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی ایم کیو ایم کے لئے عدم برادشت اور قبولیت سے انکار کی حد کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ چند نہایت اہم اور پُرعمل مناسب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سے چھ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کی عملداری میں ڈالدئیے گئے تاکہ KMC کو مالی طور سے مزید کمزور کردیا جائے ۔ جن میں پبلک اور پرائمری ہیلتھ فنکشن ، پرائمری اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اور لوکل ٹیکس کا نظام بشمول ہورڈنگ اینڈ بل بورڈ شامل ہیں۔
ان قبیح اقدامات کا لوکل گورنمنٹ کے میئر کے آفس کے الیکشن کے انعقاد کے بعد عمل میں لانا اس بات کا صریحاََ غماز ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اس سازش کا مقصد ملک کے سب سے بڑے شہر جو کہ اپنی حیثیت میں ایک منی پاکستان کا نمونہ ہے کے میئر کو عملی طور پر ناکام کرنا ہے ۔ اس لئے اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ شہری علاقوں کو موئثر خدمات بہم پہنچانے کے لئے مثلاََ جن میں کچرے کو ٹھکا نے لگانے ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، سڑکوں ،پلوں اور راستوں کی تعمیر اور مرمت وغیرہ شامل ہیں۔ آرٹیکل 140-Aکے تحت صحیح معنوں میں اقدامات لئے جائیں ، وگرنہ ایم کیو ایم مجبور ہوگی اگر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہیں کی جاتی تو مطالبہ کرنے کہ چار کے بجائے 20انتظامی یونٹ بنائے جائیں۔

۶۔ صوبہ میں حاکمیت کی غیر مرکزیت اور اختیار کی نچلی سطحوں پر منتقلی کا مطالبہ:۔

طویل عرصہ سے گورنر سندھ “پبلک سروس کمیشن سندھ “کے چیئر مین اور ممبران کا تقرر کرنے کے علاوہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن بورڈ کے چیئر مین اور تمام جامعات کے چیئر مین اور وائس چانسلرکا انتخاب اور تقرر کرنے کا اختیار استعمال کرتے چلے آرہے تھے۔ لیکن یہ تمام اختیارات اب واپس لے لئے گئے اور  وزیر اعلی ٰسندھ کو دے دئے گئے تا کہ ان کو اپنی مرضی اور خود پسندی حاصل ہوسکے اور انکے منتخب کردہ پی پی پی کے وزراء اور ان کے حواری اس طاقت کا اپنے مفاد میں استعمال کر سکیں۔

۷۔ کواپریٹیو سوسائٹی میں بد انتظامی ، زمینوں پر ناجائز قبضے کے گھوٹالے اور بورڈ آف ریوینیو اور دیگر صوبائی محکموں میں بے قائدگی اور بد عنوانیاں:۔

کواپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی قسم کی دوسری شہری علاقوں میں قائم سو سائٹیوں خصوصاََ کراچی شہر سے متعلق سو سائٹیاں جن میں فشرمین کو اپریٹیو سو سائٹی بھی شامل ہے کے اندر بد انتظامی اور بے قائدگیاں بذاتِ خود شہری سندھ اور اس کے شہریوں کے حقوق اور صوبہ کے وسائل اور اختیارات کے غصب کی ایک الگ کہانی ہے ۔
سندھ بورڈ اف ریوینیو ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور اس قسم کی دوسری صوبائی ایجنسیوں کے اندر لوٹ مار ، بے قائد گیوں اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے گھوٹالوں کے بارے میں تفصیلات اس قرطاس ابیض کے دوسرے حصے میں طوالت کے ساتھ ذکر کی جائیں گی۔ تاہم ا سکی ایک جھلک دکھانے کے لئے کہ کس طرح اختیارات کا بے جا اور ناجائز استعمال زمینوں پر قبضوں، پلاٹوں کی نوعیت کے بدلنے اور بلڈنگ پلان کو زون کے قائدوں کے بر خلاف منظور کر کے اربوں روپوں کی بد عنوانیاں کی گئی ہیں اور جس کا نوٹس نیب نے بھی لیا ہے ، ایک جدول منسلکہ Gمیں دیا گیا ہے ۔

۸۔ کوٹہ سسٹم اور ہائر گریڈ تقرریوں میں اس کی خلاف ورزی :۔

چالیس برس کے لئے دیہی اور شہری کا کوٹہ 40:60کے تناسب سے باترتیب مقرر کر کے نہ صرف انتہائی زبردست نا انصافی کی گئی بلکہ برسوں کا آزمودہ میرٹ کا فارمولا مسمار کردیا گیا ۔ اور اس کا بد ترین پہلویہ ہے کہ شہری علاقوں کے لئے ملازمتوں میں جو 40فیصد کا کوٹہ رکھا گیا تھا وہ بھی اعلیٰ گریڈ کے تبادلوں اور تقرریوں میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ 2012 ؁ٗ ؁ء سے کوٹہ سسٹم کو توسیع نہیں ملی لہذاٰ عملی طور پر کوٹہ سسٹم ختم ہو چکا ہے لیکن اس کے با وجود سندھ میں کوٹہ سسٹم ختم غیر قانونی اور غیر آئینی طور چاری ہے۔

(الف) ریوینیو ڈپارٹمنٹ :۔
ریوینیو ڈویژن ، ڈسٹرکٹ سب ڈویژن ، تعلقہ اور بورڈ آف ریوینیو
* صوبہ بھر کے تمام 29اضلاع میں سے صرف 2میں اردو بولنے والے ڈپٹی کمشنرز تعینات ہیں۔
* تمام29اضلاع کے150تعلقوں میں صرف 05اسسٹنٹ کمشنروں کا تعلق نامزد شہری شہروں سے ہے ۔
* 151تعلقہ مختیار کاروں میں سے ایک بھی اردو بولنے والا مختیار کار نامزد شہری شہر سے تعلق نہیں رکھتا ۔
* بورڈ اف ریوینیو سندھ،8 ممبران، سینئر ممبر، ممبر ایل یو ، ممبر رجسٹریشن، ممبر گوٹھ آباد، ممبر آر اینڈ ایس اور تین جوڈیشل اور ایک ریلیف کمشنر پر مشتمل گروپ میں ایک بھی شہری نامزد علاقہ سے تعلق نہیں رکھتا۔

(ب) سیکریٹیریٹ:۔
ایک صوبائی چیف سیکریٹری اور ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے علاوہ 40سیکریٹریز سندھ کی صوبائی حکومت میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے ان میں سے صرف 6کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔
صوبائی حکومت میں کام کرنے والے 19اسپیشل سیکریٹریز11ایڈیشنل سیکریٹریز اور42ڈپٹی سیکرٹریز کا تعلق شہری نامزد شہروں سے نہیں ہے ۔

(ج)ایجوکیشن مینجمنٹ:۔
بی پی ایس 16سے 20کے تقریباََ5872افسران جو اس محکمہ میں متعین ہیں ان میں سے بمشکل 560ان گریڈ کے افسران ہیں جن کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے ۔

(د)مینیجنگ ڈائریکٹر اور ڈائیریکٹر جنرلز:۔
صوبائی حکومت کے تحت چلنے والی کارپوریشنز کو مختلف وزارتوں کے تحت ہیں ان میں تقریباََ37 ایم ڈیز اور ڈی جیز تعینات ہیں ، لیکن صرف پانچ افسران ایسے ہیں جن کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔

(ر)سندھ پبلک سروس کمیشن :۔
اس ادارہ کے چیئر مین اور 9ممبران میں سے ایک کا تعلق بھی شہری نامزد شہروں سے نہیں ہے۔

(ی)سندھ کی صوبائی حکومت کی ملکیت کے تحت قائم سندھ بینک :۔
اس بینک کے تمام 17000ملازمین میں سے بمشکل 1000ملازمین ایسے ہوسکتے ہیں جنکا تعلق شہری سندھ نامزد شہروں سے ہے۔

۹(الف)۔عام ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کی خلاف ورزی اور شدید ترین مالی بے ضابطگیاں:۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 ؁ء میں اپنے آغاز سے ہی غیر منصفانہ انداز حکومت اپناتے ہوئے شہری سندھ کے عوام کے ساتھ عدم مساوات، امتیاز اور تعصب کا رویہ اختیار کئے رکھا ہے۔ انہوں نے اس دور میں جو 250000ملازمتیں دیں اور بھر تیاں کیں اس میں زیادہ تر دیہی سندھ کے لوگوں کو ترجیح دی گئی اور شہری سندھ کے امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا ۔40فیصد قانونی حصہ (کوٹہ)جو شہری سندھ کراچی، حیدر آباد اور سکھر کے امیدواروں کے لئے مختص تھا بے شرمی سے ہڑپ کرلیا گیا ۔ چونکہ صرف 20فیصدامیدوار اپنے ڈومیسائل کے مطابق بھرتی کئے گئے تقریباََ آدھے امیدواروں کا تعلق شہری سندھ سے نہیں ہے اور ان کے پاس جعلی ڈومیسائل ہیں، لثانی بنیادوں پر مہاجروں کی بیخ کنی کوئی حادثاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ہے جو پیپلزپارٹی کے سندھی قوم پرست کرتا دھرتا ؤں اور فیصلہ سازوں نے وضع کی ہے ۔
پیپلز پارٹی کی ملازمتوں میں بھرتی کی پالیسی شہری سندھ کے لوگوں کے لئے ایک برا شگون ہے اور جس کے نتیجے میں بے روزگاری عام آدمی کے خراب حالات زندگی ، صحت اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کے علاوہ جرائم ، انتہا پسندی کے مضمرات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری جانب جاگیردارانہ ذہنیت جس نے پہلے ہی روایتی طور سے سندھ کی سیاست کو طاعون زدہ کیا ہوا شہری مراکز میں اپنی وڈیرہ شاہی کو مزید مظبوط کرتے ہوئے اپنے کارندوں کی سرپرستی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر تقویت دی ہے ۔

۹(ب)۔بد ترین نظامتِ مالیات:۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2007-08میں صوبائی حکومت کے تحت کل ملازمین کی تعداد230000تھی جو سال 2015-16میں یکدم بڑھ کر 640000ہوگئی ۔2008-09میں ملازمین سے متعلق اخراجات36ملین تھے جو کہ 2015-16میں غیر معمولی طور پر بڑھ کر227ملین روپے پر پہنچ گئے ۔
فی الوقت ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی تعداد 244000ہے۔ جبکہ سندھ پولیس میں1533000ملازمین ھیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں 65000اور آب پاشی کے محکمے میں35000ملازمین کام کر رہے ہیں جو دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کے علاوہ ہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 2008سے2013کے درمیان 209000ملازمتیں بغیر کوٹہ کا خیال رکھتے ہوئے فراہم کی گئی ہیں یعنی 209000کی40فیصد خالی اسامیاں کراچی حیدر آباد اور سکھر کے جائز امیدواروں کو نہیں دی گئیں۔ اس لئے قانونی اور اخلاقی قدروں کے مطابق تقریباََ75000اسامیاں جو کہ پہلے نہیں دی گئیں ان کی پیشکش کی جانی چاہیئے ان لوگوں کو جن کا جائز حق سلب کیا گیا ،Lent System کا تجزیاتی شماریہ منسلکہ G لف میں کیا گیا ہے اور PILDATنے ایک رپورٹ “COORPORATIVE PROVINCIAL SCORE CARDS ON QUALITY OF GOVERNANCE 2015-2016” کے عنوان سے جاری کی ہے جو منسلکہHمیں لف کی گئی ہے ۔ احساس محرومی خاص طور پر اردو بولنے والے شہریوں جن کا تعلق کراچی حیدر آباد اور سکھر سے ہے مزید بڑھ جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کے 40فیصد کوٹہ ہونے کے باوجود ان کے لوگ پولیس، ھیلتھ ، ایجوکیشن اور ریوینیو کے محکمہ جات میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ جبکہ کوٹہ کے مطابق یہ انکا ہی حق ہے کہ وہ صوبہ اور اسکے باشندوں کی خدمات سر انجام دیں۔

۱۰۔ قانون کی حاکمیت کے قیام میں غفلت :۔

سینکڑوں معصوم مہاجروں کی اولادیں نہ جانے کب سے بغیر کسی عدالتی کاروائی کے جیلوں میں ایڑیاں رگڑ رہی ہیں اور سینکڑوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے ۔125زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی خبریں ہیں جبکہ ان کے والدین یا ان کی اولادیں گھر والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جھنجھوڑنے میں ترغیب دلانے میں بالکل نا کام رہے ہیں کہ وہ ان لاپتہ افراد کی تلاش اور با زیابی کے لئے کوئی کوشش سر انجام دیں۔ اگر چہ اس حوالے سے باقاعدہ مقدمات متفرق عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

۱۱۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ:۔

سینٹرل پولیس آفس۔
ایک انسپیکٹر جنرل آف پولیس اور4ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل پولیس 13ڈپٹی انسپیکٹرجنرل آف پولیس (تین پوسٹیں خالی ہیں)میں سے صرف ایک DIGسینٹرل آفس میں نامزد شہری شہر کی نمائندگی کرتا ہے ۔

رینجرز اور ڈویژنز۔
کراچی، حیدر آباد، میر پور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے پانچ شہری نامزد شہروں میں ایک بھی ڈی آئی جی کا تعلق ان علاقوں سے نہیں ہے ۔

کراچی۔
6ڈی آئی جی کی پوسٹوں میں سے جبکہ تین پر کوئی تعیناتی نہیں ہے باقی تین میں سے ایک کا تعلق کراچی سے ہے ، جبکہ14ایس ایس پی میں سے 5نامزد شہری علاقہ جات سے ہیں اور7ایس ایس پی میں 3نامزد شہری علاقہ جات سے تعلق رکھتے ہیں۔

حیدر آباد۔
ڈی آئی جی کی 2پوسٹوں میں سے (جبکہ ایک خالی ہے)3ایس ایس پیز اور2ایس پی(جبکہ ایک خالی ہے)کوئی بھی پوسٹنگ شہری نامزد علاقہ سے تعلق رکھنے والوں میں سے نہیں ہے۔

سکھر۔
ایڈیشنل ڈی آئی جی کی پوسٹ پر کوئی تعیناتی نہیں ہوئی ہے جبکہ تین ایس ایس پیز اوردو ایس ایس پیز (جس میں ایک خالی ہے) کوئی بھی پوسٹنگ شہری نامزد شہروں سے تعلق نہیں رکھتی ہے ۔

میر پور خاص۔
ایڈیشنل ڈی آئی جیز کی 2پوسٹیں ہیں جو کہ بلا تعیناتی کے خالی ہیں، ایک ایس ایس پی اور 2ایس پیز کی پوسٹیں ہیں جن میں سے ایکADIGاور ایک SSPشہری نامزد علاقوں سے ہیں۔

لاڑکانہ۔
ایک ایڈیشنل ڈی آئی جی اور چھ ایس ایس پیز (جن میں ایک خالی ہے)اور ایک SPکی پوزیشن ہے جن میں ایک ADIGاور ایک SSPشہری نامزد شہروں سے ہیں۔

اسپیشل برانچ۔
ڈی آئی جی کی ایک اور ایڈیشنل آئی جی کی 3پوسٹیں (تمام خالی ہیں) ایس ایس پی کی تین پوسٹیں جن میں سے ایک خالی ہے۔ ایس پی کی 5پوسٹیں ہیں جبکہ صرفDIGکی پوسٹ پر شہری نامزد شہر سے تعلق رکھنے والا افسر تعینات ہے۔

سندھ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ۔
اس ڈیپارٹمنٹ میں3ایڈیشل آئی جی 4ایڈیشنل ڈی آئی جی اور 11ایس پیز میں سے صرف 4ایس پیز کا تعلق شہری سندھ سے ہے۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ(CTD)۔
اس ڈیپارٹمنٹ میں ایک ایڈیشنل آئی جی ایک ڈی آئی جی ایک ایس ایس پی اور 8ایس پیزہیں جن میں سے صرف AIGایکSSPاور ایک SPشہری نامزد شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ٹیکنیکل اینڈ ٹرانسپورٹ:۔
ایک DIGایک ADIGاور دو AIGSمیں صرف ایک AIGکا تعلق شہری نامزد علاقہ سے ہے ۔

ریسرچ ڈویلپمنٹ اینڈ انسپیکشن :۔
دو میں سے ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کی اسامی خالی ہے جبکہ دوسرے متعین افسر کا تعلق بھی شہری نامزد شہر سے نہیں ہے یعنی اس ڈیپارٹمنٹ میں بھی شہری امیدواران کو یکسر نظر اندارز کیا جارہا ہے ۔

ٹریننگ رینج:۔
ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (خالی آسامی) ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایک ایڈیشنل ڈپٹی انسپکٹر جنرل(خالی آسامی)6پرسنل اور ایک کمانڈنٹ کی آسامیوں میں صرف چار پرسنل آفسروں کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔

ریپڈ رسپونس فورس (آر۔ آر۔ ایف):۔
ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ایک ڈپٹی جنرل پولیس اور دو سپریٹنڈنٹ پولیس آر۔آر۔ایف میں ہیں جن میں صرف دو ایس پیز کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔

سندھ ریزریو پولیس (ایس ۔آر۔ پی):۔
اس محکمہ میں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ایک ایڈیشنل ڈپٹی انسپکٹر پولیس اور4سپریٹنڈنٹپ پولیس ہیں جن میں ایک کا بھی تعلق شہری نامزد شہروں سے نہیں ہے۔

ایڈشنل سپریٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس:۔
501کی تعداد کے اے ایس پیز اور ڈی ایس پیز میں مشکل 76 شہری نامزد شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

انسپکٹر سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سن انسپکٹر:۔
1920انسپکٹر4867سب انسپکٹرز اور9463اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کا کر رہے ہیں جن میں150انسپکٹرز 756سب انسپکٹرز اور 1200اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔

ھیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل:۔
اس وقت تعینات 15868ہیڈ کانسٹیبل اور 87457کانسٹیبل میں صرف2500 ھیڈکانسٹیبلز اور 5500کانسٹیبلز کا تعلق شہری نامزد شہروں سے ہے۔

قبل ازیں کہ ہم اس محضر نامے کا اختتام کریں ہم اس بات کو دہرانا چاہتے ہیں کہ لفظ “مہاجر”کا استعمال محض ایک شناختی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی سورۃ49کی آیت نمبر13میں آیا ہے کہ ہم اتنے ہی پرُ امن لوگ ہیں جیسا کہ پاکستان کے دوسرے تمام شہری ہیں۔ اسلئے ہماری ہمیشہ یہ دعا اور التجا ہے کہ جو ہم پہلے بھی بارہا واضع کر چکے ہیں کہ تمام قابل اصلاح اور قابل انسداد نا انصافیاں اور ان کے اثرات کا خاتمہ ہوجانا چاہیئے تا کہ ہم بھی بالخصوص غریب اور کم آمدنی والے شہری سکون اور اطمنان سے زندگی کزار سکیں اور ملک اور قوم کی حتی المقدور اپنی اہلیت کے یموجب خدمات سر انجام دے سکیں۔
اس پاک سر زمین کے قیام میں اپنی جانیں اور مال و دولت قربان کر دینے قالوں کے قابل رحم حالت دیکھ کر شاعر کا یہ خیال صادق لگتا ہے ہے۔

آہ! تقدیر صداقت کے پرستاروں کی
موسمِ گلُ میں بھی بوچھاڑ ہے انگاروں کی

اگلا قدم:۔

سیاسی نظام کے مستقبل کے حوالے سے امید کی کرن ان تبدیلیوں میں مخیر ہے جو کہ صوبہ میں طاقت کے دھانچہ میں لائی جاسکتی ہے ۔ اچھا ہوکہ جلد ہی زیادہ جامع معاشی حکمت عملی جو شہری مڈل کلاس طبقہ کی جانب سے پیش کی جائیں ساتھ ہی جاگیردارانہ سوچ اور عوامل میں نرمی اور کمی آجائے تو بتدریج شہری نامزد علاقوں کے مکینوں کے مصائب اور ان سے روا نا انصافیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس قسم کے خوش آئندہ ماحول سے ہر دو قسم کے باشندوں میں قومی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا ۔ جس سے ایک مر بوط بہتر مستقبل پر مزکوزِ نظر متحرک معاشرہ کا ظہور ممکن ہو سکے گا۔
ایم کیو ایم یہ یقین رکھتی ہے کہ صوبہ سندھ کے لوگوں کی خوشحالی، امن اور چین سندھ میں بسنے والے شہری اور دیہی میں تقسیم برادریوں کے اتحاد اور باہمی ارتباط میں یکساں ہے۔

ایم کیو ایم مطالبہ کرتی ہے:۔
* جہاں ممکن ہو سکے سماجی/معاشرتی اور سیاسی نا انصافیاں فوراََ ختم کی جائیں۔
* آئیں کے آرٹیکل 25میں منظور شدہ اصول اور شرائط کو ان لوگوں کے لئے بھی عمل میں لایا جائے جو اپنا گھر بار، کھیت کھلیان اور اپنے پر کھوں کی قبریں اپنے نئے وطن کی چاہ میں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ بقول شاعر؛
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں
* آئین میں شامل تمام بنیادی انسانی حقوق برابری کے اصولوں پر کراچی ، حیدر آباد اور سکھر کے عوام کو بھی بلا امتیاز و تفریق اور کسی رکاوٹ کے فراہم کئے جائیں۔
خاص طور سے؛
* آئندہ ہونے والی مردم شماری(CENSUS)عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں ہونی چاہیئے ۔
* الیکٹرول یونٹ و وٹر لسٹ کی بنیاد پر (NADRA)نادرا کے فراہم ڈیٹا کے مطابق بنائے جائیں ۔
* شہری اور دیہی کی آئینی تقسیم کی بدولت ترجیحی سلوک سے مستقبل میں ہر قیمت پر گریز کیا جائے ۔
* کراچی شہر کی میٹروپولیٹن حکومت کی حیثیت اور رتبہ بحال کر کے اس کا مزاحمتی اور علیحدہ علیحدہ دائرہ کار کا عمل ختم کیا جائے ۔
* موُثر اور ذمہ دارانہ ، خود مختار لوکل گورنمنٹ نظام حکومت کا قیام یقینی بنایا جائے تا کہ شراکتی جمہوریت کی بنیاد رکھی جاسکتی اور جدید اور ترقی یافتہ ریاستوں میں اس طرح قائم نظام کے طریقے پر مشورہ کاری کا مربوط نظام قائم ہوسکے اور گراس روٹ لیول پر نچلے طبقوں سے روابط میں اضافہ ہو سکے اور
تاکہ ان شکایات کا ازالہ ہوسکے۔
* صوبہ کی جانب سے میٹرو پولیٹن اور ضلعی حکومت کو فنڈز اسی فارمولا کے تحت مختص کئے جائیں کہ ان میں افقی اور عمودی توازن قائم رہے، جس طرح وفاقی حکومت نیشنل فنانس کمیشن کے تحت فنڈز صوبوں کو دینے کے لئے مختص کرتی ہے ۔
* “عوام اپنی قسمتوں کے مالک ہیں”اور سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اہلیت اور طاقت و اختیار کی بلا تفریق فراہمی پاکستان میں جمہوریت کے تابناک اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

*******

More Stories From Feature News